لاہور میں 3 پولیس اہلکاروں کی شہادت: باپ بیٹے کی ہلاکت اور 'افغانی ٹاسک' کا کیا تعلق ہے؟

لاہور میں تین پولیس اہلکاروں کی شہادت کے واقعے کی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق...
شائع 15 اگست 2026 09:41am

لاہور میں تین پولیس اہلکاروں کی شہادت کے واقعے کی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر ایک منصوبہ بندی کے تحت جھوٹی اطلاع دے کر موقع پر بلایا گیا، جہاں انہیں فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ واقعے کے مرکزی ملزمان میں شامل فیاض بٹ کے بڑے بیٹے فیضان بٹ کو افغانستان میں مبینہ طور پر لاہور میں پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق فیاض بٹ نے ایک شخص کے ذریعے پولیس کو فون کروایا اور اطلاع دی کہ اس کا مطلوب بیٹا ریحان بٹ گھر واپس آگیا ہے، پولیس آکر اسے گرفتار کرلے۔ اطلاع ملنے پر سب انسپکٹر عدیل عاشق اور ہیڈ کانسٹیبل اسد موقع پر پہنچے تو انہیں مبینہ طور پر دھوکے سے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

پولیس ترجمان کے مطابق ریحان بٹ اس سے قبل بھی سب انسپکٹر عدیل عاشق کو فون پر دھمکیاں دے رہا تھا، جس پر اس کے خلاف مقدمہ بھی درج تھا۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً دو سال قبل فیاض بٹ کے بڑے بیٹے فیضان بٹ کو ناجائز اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جیل میں اس کی ملاقات کالعدم تنظیم سے مبینہ طور پر وابستہ رؤف گجر سے ہوئی۔

ذرائع کے مطابق رؤف گجر نے پانچ لاکھ روپے دے کر فیضان بٹ کی ضمانت کروائی اور بعدازاں اسے افغانستان بھجوا دیا، جہاں خراسان کے علاقے میں فیضان کی ملاقات عاصم نامی شخص سے ہوئی۔

تفتیشی حکام کے مطابق عاصم نے مبینہ طور پر فیضان بٹ کو لاہور میں چھ پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کا ٹاسک دیا۔ پاکستان واپسی پر فیضان نے مبینہ طور پر تین پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا، تاہم بعد میں ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

ذرائع کے مطابق اسی واقعے کے بعد فیضان کے بھائی ریحان بٹ کی پولیس سے شدید رنجش پیدا ہوگئی تھی۔

دوسری جانب بادامی باغ اور نواں کوٹ میں فائرنگ کے واقعات میں شہید ہونے والے سب انسپکٹر عدیل عاشق، ہیڈ کانسٹیبل اسد اور کانسٹیبل حارث سلیم کی نماز جنازہ پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں ادا کردی گئی۔

نماز جنازہ میں سول و عسکری قیادت، کور کمانڈر لاہور اور آئی جی پنجاب سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ حکام نے شہدا کے جسد خاکی پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور اہلخانہ سے ملاقات کی۔

کور کمانڈر لاہور اور دیگر اعلیٰ حکام نے شہدا کے اہلخانہ کو یقین دہانی کرائی کہ انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور خاندانوں کی فلاح و بہبود اور دیکھ بھال کا مکمل خیال رکھا جائے گا۔

واقعے کے بعد فرار ہونے والے ملزمان کی تلاش شروع کی گئی، جس کے دوران شیخوپورہ کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں فیاض بٹ اور اس کا بیٹا ریحان بٹ مارے گئے۔

تھانہ صدر مریدکے کے ایس ایچ او انسپکٹر عامر افضل کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق تین مسلح ملزمان شہری عبدالحفیظ کے گھر میں داخل ہوکر اہلخانہ کو یرغمال بنائے ہوئے تھے۔ پولیس کے پہنچنے پر ملزمان نے فائرنگ کردی، جس پر جوابی کارروائی کی گئی۔

پولیس کے مطابق کارروائی کے بعد گھر کے صحن سے دو ملزمان کی لاشیں اور اسلحہ برآمد ہوا۔ تفتیشی حکام نے واقعے میں ملوث تیسرے ملزم کی شناخت 32 سالہ طارق کے نام سے کی ہے، جو آزاد کشمیر کا رہائشی اور ریحان بٹ کے ساتھ رہ رہا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تیسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جارہے ہیں، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

Read Comments