ٹک ٹاکر عائشہ قتل کیس میں نامزد ملزمان کون ہیں؟
ٹیکسلا میں معروف ٹک ٹاکر شمسو بی بی عرف عائشہ گلمانہ کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے، جس کا مقدمہ مقتولہ کے والد کی مدعیت میں نامزد اور نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق 28 سالہ عائشہ گلمانہ، جو سوشل میڈیا پر ٹک ٹاک ویڈیوز بناتی تھیں اور ان کے لاکھوں فالوورز تھے، ان کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع دیر سے تھا اور وہ سات سے آٹھ ماہ قبل ہی ٹیکسلا منتقل ہوئی تھیں۔ جبکہ قتل واقعہ چودہ اگست کو اس وقت پیش آیا جب مقتولہ کو ان کے ایک دوست نے فون کر کے باہر بلایا تھا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق مقتولہ کے والد فضل صاحبزادہ نے بتایا کہ بیٹی کے موبائل فون پر کاشف نامی شخص کی کال آئی جس کے بعد وہ اپنے بھائی نعمت اللہ اور پندرہ سالہ بہن عاصمہ کے ساتھ گاڑی میں گھر سے باہر چلی گئیں۔ کچھ ہی دیر بعد انہیں اطلاع ملی کہ گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق، ٹی ایچ کیو اسپتال ٹیکسلا پہنچ کر والد نے بیٹی کی لاش کی شناخت کی، جبکہ ان کی دوسری بیٹی اور بیٹا واقعے میں زخمی ہوئے۔
واقعے کے عینی شاہد اور مقتولہ کے بھائی نعمت اللہ نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ پیٹرول پمپ کے قریب موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی اور پچھلی نشست پر بیٹھے شخص کی گولی عائشہ کی گردن پر لگی جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں اور گاڑی بے قابو ہو کر ڈمپر سے ٹکرا گئی۔
نعمت اللہ کا کہنا تھا کہ وہ سامنے آنے پر فائرنگ کرنے والے ملزمان کو پہچان سکتے ہیں۔
مقتولہ کے والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی نے کوثر اور جاوید عرف شاہین نامی افراد کو ایک پلاٹ فروخت کیا تھا اور جب عائشہ نے ان سے اپنی رقم کا تقاضہ کیا تو ملزمان نے اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، جس کی درخواست اسلام آباد کے تھانے میں بھی دی گئی تھی۔
والد فضل صاحبزادہ نے الزام عائد کیا ہے کہ کاشف کے بلانے پر بیٹی گھر سے نکلی اور انہی مالی معاملات اور رقم ہڑپ کرنے کی خاطرمتعدد افراد نے مل کر یا نامعلوم شوٹرز کے ذریعے ان کی بیٹی کو قتل کروایا۔
ان کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج ہونے کے باوجود ملزمان ابھی تک آزاد ہیں۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد تینوں مرکزی ملزمان کا تعلق بھی خیبرپختونخوا کے ضلع دیر سے ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے شفاف تفتیش کو ممکن بنایا جا سکے۔
