جماعت اسلامی کے زیر اہتمام نظام مصطفی کانفرنس

شائع 02 اپريل 2016 04:49pm

لاہور :جماعت اسلامی کے زیر اہتمام منعقدہ نظام مصطفی کانفرنس میں دینی و سیاسی جماعتوں کے رہنماوٴں نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب اسمبلی سے منظور کردہ تحفظ نسواں ایکٹ واپس نہ لیا گیا تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مدارس سے منسلک نہ کیا جائے۔

منصورہ لاہور میں ہونے والی نظام مصطفیٰ کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ دینی و سیاسی جماعتیں قومی اسمبلی اور سینٹ میں حقوق نسواں کے حوالے سے ایک نیا بل پیش کریں گی۔ پنجاب اسمبلی سے منظور کردہ ایکٹ خاندانی وحدت کو توڑنے کے مترادف ہے۔ امیر جماعت اسلامی سینٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ نظریہ پاکستان اور آئین سے متصادم کسی ایکٹ کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔

جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مذہبی جماعتوں کو بند گلی کی طرف نہ دھکیلا جائے۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نء قانون سازی کی ضرورت ہے۔

جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی آڑ میں دینی مدارس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ملک کو سیکولرازم کی طرف لے جایا گیا تو حکمرانوں کو نئی تحریک کا سامنا کرنا پڑے گا۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیگر علماء کا کہنا تھا کہ دینی جماعتوں کو اپنے تمام تر اختلافات بھلا کر ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے مشترکہ تحریک چلانا ہوگی۔

Read Comments