Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
لاہور:لاہور ہائیکورٹ میں وزیراعظم نواز شریف اور سینیٹر رحمان ملک کی نااہلی کی درخواست باقاعدہ سماعت کیلئے منظورکرلی،اس کے علاوہ پانامہ لیکس پر عدالتی کمیشن بنانے کے خلاف بھی درخواست دائر کردی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست کی سماعت میں تحریک انصاف کے وکیل گوہر نواز سندھو نے موقف اختیار کیا کہ پانامہ لیکس کے بعد نواز شریف اور رحمان ملک کی بدعنوانی منظر عام پرآچکی ہے، لہذا انہیں نااہل قرار دیا جائے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ نااہلی کا معاملہ الیکشن کمیشن کا ہے، جبکہ آئین کے آرٹیکل دو سو اڑتالیس کے تحت وزیراعظم کو استثناءحاصل ہے۔گوہر نواز سندھو ایڈووکیٹ نے کہا کہ نواز شریف نے اثاثے ذاتی حیثیت میں ظاہر نہیں کئے،بطور وزیراعظم انہیں اس پر استثناءحاصل نہیں،کوئی بھی شہری الیکشن کمیشن کی کارروائی نہ کرنے کے باوجود عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرلیاجبکہ لاہور ہائیکورٹ میں ہی جوڈیشل ایکٹو ازم پینل کی دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیاکہ پانامہ لیکس میں سیاستدانوں سمیت دیگر کئی افراد کے نام سامنے آئے ہیں۔اربوں روپے کی کرپشن کیلئے عدالتی کمیشن بنانا درست نہیں،کیونکہ کرپشن کی تحقیقات کیلئے ملک میں نیب کا ادارہ موجود ہے، جبکہ اب تک کے بنائے گئے کمیشنز اور ٹربیونلز کی کارروائیوں پر عمل درآمد نہیں ہوا،کمیشن تجاویز مرتب کرتا ہے لیکن ان پر کارروائی نہیں ہوتی،عدالت مکمل کارروائی کرنے کیلئے معاملہ نیب کو بھجوانے کے احکامات جاری کرے۔
لاہور:لاہور ہائیکورٹ میں وزیراعظم نواز شریف اور سینیٹر رحمان ملک کی نااہلی کی درخواست باقاعدہ سماعت کیلئے منظورکرلی،اس کے علاوہ پانامہ لیکس پر عدالتی کمیشن بنانے کے خلاف بھی درخواست دائر کردی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست کی سماعت میں تحریک انصاف کے وکیل گوہر نواز سندھو نے موقف اختیار کیا کہ پانامہ لیکس کے بعد نواز شریف اور رحمان ملک کی بدعنوانی منظر عام پرآچکی ہے، لہذا انہیں نااہل قرار دیا جائے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ نااہلی کا معاملہ الیکشن کمیشن کا ہے، جبکہ آئین کے آرٹیکل دو سو اڑتالیس کے تحت وزیراعظم کو استثناءحاصل ہے۔
گوہر نواز سندھو ایڈووکیٹ نے کہا کہ نواز شریف نے اثاثے ذاتی حیثیت میں ظاہر نہیں کئے،بطور وزیراعظم انہیں اس پر استثناءحاصل نہیں،کوئی بھی شہری الیکشن کمیشن کی کارروائی نہ کرنے کے باوجود عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرلیاجبکہ لاہور ہائیکورٹ میں ہی جوڈیشل ایکٹو ازم پینل کی دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیاکہ پانامہ لیکس میں سیاستدانوں سمیت دیگر کئی افراد کے نام سامنے آئے ہیں۔
اربوں روپے کی کرپشن کیلئے عدالتی کمیشن بنانا درست نہیں،کیونکہ کرپشن کی تحقیقات کیلئے ملک میں نیب کا ادارہ موجود ہے، جبکہ اب تک کے بنائے گئے کمیشنز اور ٹربیونلز کی کارروائیوں پر عمل درآمد نہیں ہوا،کمیشن تجاویز مرتب کرتا ہے لیکن ان پر کارروائی نہیں ہوتی،عدالت مکمل کارروائی کرنے کیلئے معاملہ نیب کو بھجوانے کے احکامات جاری کرے۔