آن لائن جاما اونکولوجی میں شائع ہونےوالی تحقیق کے مطابق رات میں تقریباً تیرہ گھنٹے بھوکا رہنا نہ صرف کئی بیماریوں سے بچاتا ہے بلکہ چھاتی کے سرطان جو کہ ابتدائی اسٹیج پر ہوں کو بھی روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
چھاتی کا سرطان ترقی یافتہ ممالک میں عورتوں کی اموات کا سب سے بڑا سبب ہے اورپوری دنیا میں موجود مختلف سرطانوں میں دوسرے نمبرپرہے جس سے سب سے زیادہ اموات واقع ہوتی ہیں۔
صرف امریکہ میں دوہزار بارہ میں دو لاکھ چوبیس ہزار ایک سو سینتالیس عورتیں اور دوہزار ایک سو پچیس مردوں میں چھاتی کے سرطان کی تشخیص کی گئی اور اکتالیس ہزار ایک سو پچاس عورتیں اور چار سو پچاس مرد زندگی کی بازی ہار گئے ۔
چھاتی کے سرطان کوروکنے میں متوازن غذا بھی اہم کردارادا کرتی ہے بہرحال تحقیق سے جو نتیجہ حاصل ہوا ہے اس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کون سی غذا یاغذائی گروپ یا کون سا غذائی طریقہ آپ کے لئے فائدہ مند ہوسکتا ہے ۔
نئی تحقیق کے مطابق اس میں وقت بھی اہم کردار ادا کرتا ہے اور آپ کیا کھاتے ہیں اس کا کیا اثر آپ کے نظام انہظام پر ہوتا ہے اسی سے آپ کی صحت اور سرطان سے بچاو¿ کے بارے میں پتا چلتا ہے ۔
چوہوں پر کی جانے والی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب سولہ گھنٹے کی فاسٹینگ کے بعد ان کو زیادہ چکنائی والی غذا دی گئی تو جو نتیجہ سامنے آیا اسکے مطابق ایبنورمل گلوکوز میٹابولزم ، جلن ، سوجن اور وزن بڑھنا ان سب سے بچاو¿ میں مدد گار ثابت ہوا جو کہ سرطان ہونے کا سبب بن سکتے ہیں ۔
روتھ ای پیٹرسن پی ایچ ڈی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ رات میں دیر تک بھوکا رہنا چھاتی کے سرطان کے بچاو¿میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے ۔رات میں تقریباً تیرہ گھنٹے سے زیادہ بھوکا رہنا صحت پر اچھے ثرات مرتب کرتا ہے۔
اس سلسلے کے لئے دوہزار چارسوتیرہ خواتین کو ہیلتھ ایٹینگ اینڈ لیوینگ اسٹڈی کے تحت انیس سو پچیانوے سے دوہزارسات تک رجسٹرڈ کیا گیا اور ان تمام خواتین کی اوسط عمر تقریباً باون برس تھی اور ان سب کو اس وقت رجسٹرڈ کیا گیا تھا جب ان میں چھاتی کا سرطان ابتدائی اسٹیج پر تھا اور جب ان میں سرطان تشخیص کیا گیا تھا اس وقت ان کی عمر ستائیس سال سے ستر سال کے درمیان تھی اور کسی بھی خاتون کو ذیابیطس نہیں تھی ان کو ہر روز بارہ اعشاریہ پانچ گھنٹے رات میں بھوکا رہنا تھا۔
اس مطالعے کا فوکس یہ تھا کہ یہ بیماری دوبارہ کتنی شدت سے نمودار ہوتی ہے اور کوئی نیا ٹیومر کس طرح سے ظاہر ہوتا ہے اور ان کا چیک اپ کا ٹائم سات اعشاریہ تین سال رکھا گیا تھا اور اس سے ہونے والی اموات کو بھی دیکھنا تھا اس کے لئے گیارہ اعشاریہ چارسال کا دورانیہ تھا۔
وہ خواتین جن کی رات کی فاسٹینگ تیرہ گھنٹے سے کم تھی ان میں دوبارہ سرطان ہونے کا خدشہ نسبتا چھتیس فیصد زیادہ تھا۔ ،جن خواتین میں چھاتی کے سرطان ابتدائی اسٹیج پر تھے رات دیر تک سونا تو ان کی توجہ ایچ بی اے ون سی کی طرف کم تھی ۔
رات کی فاسٹینگ سے گلائیسیمیک اور نیند کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ نہ صرف چھاتی کے سرطان کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں بلکہ ذیابیطس کی ٹائپ ٹو ، دل کی بیماریوں اور دوسرے سرطان میں بچاو¿میں بھی مفید ثابت ہوتی ہے۔