لولے لنگڑے سسٹم کو بے ساکھیوں سے چلانا پڑتا ہے،چیف جسٹس

شائع 12 اپريل 2016 08:46am

اسلام آباد:پانامہ لیکس پرانکوائری کمیشن کے حوالے سے چیف جسٹس انورظہیرجمالی نے لب کشائی کرڈالی۔ کہتے ہیں یہ بتائیں تفتیش کے ذمہ دارایگزیکٹیوہوتی ہے یا عدلیہ؟ ہمارے لولے لنگڑے سسٹم کو بے ساکھیوں سے چلانا پڑتا ہے۔

سندھ میں بلدیاتی انتخابات شوآف ہینڈ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے کہ کہنے کوبہت کچھ ہے مگرہمارے لئے مناسب ہے کہ لب کشائی کم کریں۔ یہ بتائیں تفتیش کے ذمہ دارایگزیکٹیوہوتی ہے یا عدلیہ ؟ہم سے کہتے ہیں پانامہ معاملہ پرسوموٹولیں یا سپریم کورٹ کمیشن کیوں نہیں بناتی۔

یہ سب کہنے کی باتیں ہیں بتائیں کیا یہ عدلیہ کا ذمہ دار ہے کہ کمیشن بنائیں۔ ہمارے لولے لنگڑے سسٹم کو بے ساکھیوں سے چلانا پڑتا ہے۔ کسی ایک شخص کونشانہ پرنہیں لا رہے ہیں۔ پورے ملک کو ریفارمز کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت سب سے اہم مردم شماری کی ضرورت ہے۔ حلقہ بندیاں اس وقت تک درست نہیں ہو ں گی جب تک نئی مردم شماری نہ ہوجائے۔ اگرہاتھ دکھا کرچیئرمین کا انتخاب اتنا ہی شفاف ہے۔ تووزیر اعظم کا انتخاب بھی ایسے ہی ہونا چاہئے۔

پیپلزپارٹی کواگرجمہوری تقاضوں کا اتنا خیال تھا توچارباربلدیاتی نظام میں ترامیم کیوں کیں۔ میں پورے سسٹم کو مورد الزام ٹہراتاہوں۔ کسی ایک ادارہ کا قصور نہیں۔

Read Comments