Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
فائل فوٹواسلام آباد:قومی اسمبلی نے طویل بحث مباحثہ کے بعد ایکٹرانک کرائم کی روک تھام کے ترمیمی بل کی منظوری دے دی۔ سائبر دہشت گردی پر عمر قید کی سزا اور پانچ کروڑ روپے کا جرمانہ ہوگا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر مملکت انوشہ رحمان نے سائبر کرائم کی روک تھام کا ترمیمی بل پیش کیا تو اپوزیشن نے اس میں مزید اکیس ترامیم پیش کردیں۔ رائے شماری پر ایوان نے بل کی منظوری دے دی۔ بل کے تحت معلوماتی نظام یا ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی کی صورت میں تین ماہ قید اور پچاس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ڈیٹا کو بغیر اجازت نقل یا ارسال کرنے پر چھ ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے تک سزا ہوگی۔ معلوماتی اعداد وشمار میں مداخلت پر دو سال قید پانچ لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ حساس انفراسٹرکچر معلوماتی نظام یا ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی پر پانچ سال قید یا پچاس لاکھ تک کا جرمانہ ہوگا۔بل کے تحت دہشت گردی اور کالعدم تنظیموں کی نفرت انگیز تقاریر پر معاونت کرنے پر پانچ سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔ سائبر دہشتگردی کی کڑی سزا ہوگی جوکہ چودہ سال تک قید اور پانچ کروڑ روپے جرمانہ پر مشتمل ہوگی۔ الیکٹرانک جعل سازی پر تین سال قید یا پانچ لاکھ جرمانہ ۔ سم کارڈ کے غیر مجاز اجرا پر تین سال قید اور پانچ لاکھ جرمانہ ۔ مواصلاتی آَلات میں ردوبدل پر تین سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوسکے گی۔کسی شخص کی عزت و وقار کے خلاف جرائم پر تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ بل کے تحت وفاقی حکومت ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت سے خصوصی تربیت کا انتظام کرے گی۔ اور معلوماتی نظام پر حملے کے تدارک کے لئے ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں تشکیل دے گی۔
فائل فوٹو
اسلام آباد:قومی اسمبلی نے طویل بحث مباحثہ کے بعد ایکٹرانک کرائم کی روک تھام کے ترمیمی بل کی منظوری دے دی۔ سائبر دہشت گردی پر عمر قید کی سزا اور پانچ کروڑ روپے کا جرمانہ ہوگا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر مملکت انوشہ رحمان نے سائبر کرائم کی روک تھام کا ترمیمی بل پیش کیا تو اپوزیشن نے اس میں مزید اکیس ترامیم پیش کردیں۔ رائے شماری پر ایوان نے بل کی منظوری دے دی۔ بل کے تحت معلوماتی نظام یا ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی کی صورت میں تین ماہ قید اور پچاس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
ڈیٹا کو بغیر اجازت نقل یا ارسال کرنے پر چھ ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے تک سزا ہوگی۔ معلوماتی اعداد وشمار میں مداخلت پر دو سال قید پانچ لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ حساس انفراسٹرکچر معلوماتی نظام یا ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی پر پانچ سال قید یا پچاس لاکھ تک کا جرمانہ ہوگا۔
بل کے تحت دہشت گردی اور کالعدم تنظیموں کی نفرت انگیز تقاریر پر معاونت کرنے پر پانچ سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔ سائبر دہشتگردی کی کڑی سزا ہوگی جوکہ چودہ سال تک قید اور پانچ کروڑ روپے جرمانہ پر مشتمل ہوگی۔ الیکٹرانک جعل سازی پر تین سال قید یا پانچ لاکھ جرمانہ ۔ سم کارڈ کے غیر مجاز اجرا پر تین سال قید اور پانچ لاکھ جرمانہ ۔ مواصلاتی آَلات میں ردوبدل پر تین سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوسکے گی۔
کسی شخص کی عزت و وقار کے خلاف جرائم پر تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ بل کے تحت وفاقی حکومت ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت سے خصوصی تربیت کا انتظام کرے گی۔ اور معلوماتی نظام پر حملے کے تدارک کے لئے ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں تشکیل دے گی۔