سندھ میں میئراورڈپٹی میئرکاانتخاب خفیہ رائے شماری سےکرانےکا حکم

شائع 15 اپريل 2016 10:30am

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے سندھ میں میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے کرانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے مخصوص نشستوں میں اضافہ قانونی قرار دیتے ہوئے حکومت سندھ کو دو ہفتوں میں قانون سازی کی ہدایت کر دی۔

میئر اورڈپٹی میئرز کے انتخاب کے طریقہ کارسے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ گزشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے شو آف ہینڈز کا طریقہ کار مسترد کرتے ہوئے انتخاب خفیہ رائے شماری سے کرانے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی دائر اپیل خارج کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقراررکھا ، اور حکم جاری کیا کہ میئراورڈپٹی میئر کا انتخاب دو ماہ کی مدت میں کرایا جائے۔عدالت عالیہ نے خواتین اور نوجوانوں کی مخصوص نشستوں میں اضافہ قانونی قرار دیتے ہوئے ان نشستوں پر انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کی ہدایات جاری کر دیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے ، تاہم انتخابی شیڈول کے اجرا کے بعد قانون میں تبدیلی کا عمل غیر قانونی ہے ، عدالت نے الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد کی گئی تمام تقرریاں اور تبادلے بھی منسوخ کر دئے۔

سندھ ہائی کورٹ نے رواں سال دس فروری کوایم کیو ایم اورفنکشنل لیگ کی درخواستوں پراپنے فیصلے میں حکومت سندھ کی جانب سے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں کی گئی ترامیم کو منسوخ کردیا تھا۔ ان ترامیم میں خواتین کی مخصوص نشستوں میں بائیس سے تینتیس فیصد اضافہ اور نوجوانوں کے لیے پانچ فیصد مخصوص نشستیں بھی شامل تھیں۔

عدالت عظمی کے فیصلے کے خلاف سندھ حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ، جس پر سترہ فروری کوسندھ میں ہونے والے میئر، ڈپٹی میئر ، چیئرمین اوروائس چیئرمین کے انتخابات ملتوی کردیے گئے تھے۔عدالتی فیصلے کے تحت انتخابی عمل دوماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

Read Comments