Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
فائل فوٹوراجن پور :پولیس کیلئے بظاہر چھلاوہ بنا جانے والے چھوٹو گینگ کیخلاف فوجی آپریشن شروع ہوگیا، کچے کے علاقے میں ڈاکووٴں کی پناہ گاہوں پر فضائی حملے بھی جاری ہیں، فوج نے کچے کے علاقے میں کرفیو نافذ کردیا ہے، آپریشن سے قبل ڈاکووٴں کو سرنڈر کرنے کی پیشکش کی گئی جسے ڈاکووٴں نے رد کردیا۔ راجن پور میں خوف کی علامت چھوٹو گینگ کے دن بالاآخر گنے جاچکے۔تیرہ روز سے پولیس کو تگنی کا ناچ نچانے اور چھ پولیس اہلکاروں کو شہید اور چوبیس کو یرغمال بنانے والے چھوٹو گینگ کی سرکوبی کیلئے آخر کار پاک فوج میدان میں آگئی۔پاک فوج نے چھوٹو گینگ کے ارکان کو شام چھ بجے مغوی اہلکاروں سمیت سرنڈر کرنے کی ڈیڈ لائن دی، لیکن ڈاکووں نے یہ کہہ کر سرنڈر کرنے نے انکار کردیا کہ وہ زمیندار ہیں، ان کو آبائی گھروں سے نکالنے کیلئے آپریشن کیا جا رہا ہے،وہ کسی قیمت پر علاقہ خالی نہیں کریں گے۔ڈیڈ لائن ختم ہوتے ہی چار گن شپ ہیلی کاپٹرز نے اڑان بھری اور ڈاکووٴں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔سیکیورٹی اہلکاروں نے کچے کے علاقے کوسیل کرکے شام چھ سے صبح چھ بجے تک کرفیو بھی نافذ کردیا ہے۔آپریشن سے قبل چھوٹو گینگ نے چوبیس مغوی پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ سے رابطہ کیا اور انہیں بلیک میل کیا کہ اگر آپریشن رکوانے کیلئے احتجاج نہ کیا تو مغویوں کو ماردیا جائے گا، جس کے بعد مغوی پولیس اہلکاروں کے ورثاء نے انڈس ہائی وے بند کردی گئی،کراچی سے پشاور جانیوالی ٹریفک معطل ہوگئی۔حکومت اراکین بھی اب چھوٹوگینگ کو بڑا قراردے رہے ہیں اور کہتے ہیں پولیس کی تربیت بڑے ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں کو سر کرنے کی نہیں۔ جس نے پشت پناہی کی اسے سامنے لائیں گے۔اراکین متفق ہیں کہ چھوٹو ، موٹو یا پھرپپوکوئی بھی گینگ ہو حکومت ابتداء میں ہی کچل دے تاکہ رٹ چیلنج کرنے والے اس قابل ہی نہ رہیں۔
فائل فوٹو
راجن پور :پولیس کیلئے بظاہر چھلاوہ بنا جانے والے چھوٹو گینگ کیخلاف فوجی آپریشن شروع ہوگیا، کچے کے علاقے میں ڈاکووٴں کی پناہ گاہوں پر فضائی حملے بھی جاری ہیں، فوج نے کچے کے علاقے میں کرفیو نافذ کردیا ہے، آپریشن سے قبل ڈاکووٴں کو سرنڈر کرنے کی پیشکش کی گئی جسے ڈاکووٴں نے رد کردیا۔
راجن پور میں خوف کی علامت چھوٹو گینگ کے دن بالاآخر گنے جاچکے۔تیرہ روز سے پولیس کو تگنی کا ناچ نچانے اور چھ پولیس اہلکاروں کو شہید اور چوبیس کو یرغمال بنانے والے چھوٹو گینگ کی سرکوبی کیلئے آخر کار پاک فوج میدان میں آگئی۔
پاک فوج نے چھوٹو گینگ کے ارکان کو شام چھ بجے مغوی اہلکاروں سمیت سرنڈر کرنے کی ڈیڈ لائن دی، لیکن ڈاکووں نے یہ کہہ کر سرنڈر کرنے نے انکار کردیا کہ وہ زمیندار ہیں، ان کو آبائی گھروں سے نکالنے کیلئے آپریشن کیا جا رہا ہے،وہ کسی قیمت پر علاقہ خالی نہیں کریں گے۔
ڈیڈ لائن ختم ہوتے ہی چار گن شپ ہیلی کاپٹرز نے اڑان بھری اور ڈاکووٴں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔سیکیورٹی اہلکاروں نے کچے کے علاقے کوسیل کرکے شام چھ سے صبح چھ بجے تک کرفیو بھی نافذ کردیا ہے۔
آپریشن سے قبل چھوٹو گینگ نے چوبیس مغوی پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ سے رابطہ کیا اور انہیں بلیک میل کیا کہ اگر آپریشن رکوانے کیلئے احتجاج نہ کیا تو مغویوں کو ماردیا جائے گا، جس کے بعد مغوی پولیس اہلکاروں کے ورثاء نے انڈس ہائی وے بند کردی گئی،کراچی سے پشاور جانیوالی ٹریفک معطل ہوگئی۔
حکومت اراکین بھی اب چھوٹوگینگ کو بڑا قراردے رہے ہیں اور کہتے ہیں پولیس کی تربیت بڑے ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں کو سر کرنے کی نہیں۔ جس نے پشت پناہی کی اسے سامنے لائیں گے۔اراکین متفق ہیں کہ چھوٹو ، موٹو یا پھرپپوکوئی بھی گینگ ہو حکومت ابتداء میں ہی کچل دے تاکہ رٹ چیلنج کرنے والے اس قابل ہی نہ رہیں۔