شائع 18 اپريل 2016 10:12am

روزمرہ بولے جانے والے آٹھ دلچسپ جھوٹ

ہر کوئی جانتا ہے کہ جھوٹ بولنا کتنی بری بات ہے، یہی وجہ ہے کہ والدین بچپن سے ہی اپنے بچوں کو جھوٹ بولنے سے روکتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ان کے بچوں میں جھوٹ بولنے کی عادت پید ا نہیں ہو۔ لیکن گھر میں ہوتے ہوئے بچوں سے فون پر یہ  بلوا  دینا کہ ابو یا امی گھر پر نہیں ہیں ۔۔ تو بچوں میں سے جھوٹ بولنے کی عادت کیسے دور جائے گی؟

اسی لیے وہی بچے بڑےہوکے زندگی کے کئی مقامات ہر جھوٹ کا سہارہ لیتے ہیں۔ اکثر لوگ جھوٹ اس لیے بولتے ہیں کہ سامنے والا شخص پریشان نہیں ہو، اکثر لوگ اپنی جان بچانے کے لیے بھی جھوٹ بول جاتے ہیں۔ بہر حال ہر کوئی اپنی زندگی میں روزانہ کے حساب سے جھوٹ بولتا ہے اور روزمرہ بولے جانےوالےوہ کون سے جھوٹ ہیں؟

آئیے جانتے ہیں۔۔۔

٭ آپ نے میرے بال بہت اچھے کاٹے ہیں

اکثر لوگ بہت شوق سے بال کٹوانے جاتے ہیں۔جب بال کٹ جاتے ہیں تو لوگ دل پر پتھر رکھ کے کہتے ہیں کہ آپ نے میرے بال بہت اچھے کاٹے ہیں،جبکہ دل ہی دل میں وہ افراد  خون کے آنسو رو رہے ہوتے ہیں اور اپنے ہیئر ڈیسر سے جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں تاکہ وہ خوش ہوجائے۔

٭ میں با لکل ٹھیک ہوں

اکثر لوگ جب اچھا محسوس نہیں کررہے ہوتے  تو وہ اپنے دوستوں کو یہ کہہ کے ٹال دیتے ہیں کہ میں ٹھیک ہوں، مجھے کچھ نہیں ہوا وغیرہ۔۔۔ لیکن حقیقت میں وہ جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں کہ کہیں ان کے سچ بتانے سے ان کے دوست احباب پریشان نہ ہوجائیں۔

٭ میرے بچے موٹے نہیں ہیں

دنیا میں تقریباً سب ہی والدین کو اپنے بچے کمزور لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچے کتنے بھی موٹے اور تندرست ہوں والدین کا منہ یہ کہتے نہیں تھکتا کہ میرے بچے کمزور ہیں  ، وہ کھانا نہیں کھاتے وغیرہ جبکہ حقیقت سب کے سامنے ہوتی ہے۔

٭ آپ میرا ٹائم لے سکتے ہیں

بعض لوگ اتنے باتونی ہوتے ہیں کہ سامنے والے شخص کی مروت کا لحاظ بھی نہیں کرتے اور بغیر یہ سوچے سمجھے کہ( سامنے والے شخص کو شاید کہیں جانا ہو)  اپنی باتیں اس سے جاری رکھتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ پوچھتے بھی رہتے ہیں کہ کہیں آپ کا زیادہ ٹائم تو نہیں لے رہے؟ مگر سامنے والا شخص بھی مروت کہہ دیتا ہے کہ کوئی بات نہیں آپ میرا ٹائم لے سکتے ہیں جبکہ وہ سفید جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں اور دل ہی دل میں دعا کررہے ہوتے ہیں کہ جلدی سے ان کی باتیں ختم ہوں۔

٭ آپ نے جو کیا ، قابل تعریف تھا

اکثر والدین اپنے بچوں کو حوصلہ دلانے کے لیے یہ جملہ استعمال کرتے ہیں کہ ہار جیت تو زندگی کا حصہ ہوتی ہے لیکن آپ کی کوشش قابل تعریف ہوتی ہے۔ اسی طرح دوست احباب بھی حوصلہ دینے کے لیے یہ جملہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ جملہ دراصل حوصلہ افزائی کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔ کیونکہ کسی کی ہار پر اسے حوصلہ دینا زیادہ مناسب ہوتا ہے با نسبت یہ جتانے کے کہ آپ نےغلط کام سرانجام دیا ہے۔

٭ میرا مزید کوئی سوال نہیں

کلاس روم میں اکثر لیکچر ختم ہونے کے بعد  ٹیچر طالب علموں سے پو چھتے ہیں کہ لیکچر سے متعلق کوئی سوال تو نہیں، جس پر تمام طالب علم ہم آواز کہہ دیتے ہیں کہ نہیں ہمارا مزید کوئی سوال نہیں ہے۔ کچھ طالب علم مزید لیکچر سے بچنے کے لیے یہ جھوٹ بول دیتے ہیں، کچھ طالب علم کو لیکچر سمجھ ہی نہیں آتا لیکن وہ ڈر و خوف کے باعث یہ جھوٹ بول دیتے ہیں۔

٭ مجھے یہ کام کرکے خوشی ہوگی

جب آپ کی امی، ساس ، بیوی یا باس آپ کو مشکل سے مشکل کام دیتے جاتے ہیں اور آپ ہنسی خوشی کے ساتھ سارے کام کرنے کے لیے راضی ہوجاتے ہیں اور امی، ساس ، بیوی اور باس کے پوچھنے کے باوجود بھی آپ یہی جواب دیتے ہیں کہ (نہیں مجھے آپ کا یہ کام کرکے بہت خوشی ہوگی) چاہے دل ہی دل میں آپ کا رو  رہے ہوں لیکن چہرے پر مسکراہٹ بکھیرے سارے کام کرتے جاتے ہیں۔

٭ دیکھتے ہیں

دنیا کے تمام والدین اپنے بچوں کی کئی باتوں کو یہ کہہ کے ٹال دیتے ہیں کہ ہُاں دیکھا جائے گا یا دیکھتے ہیںٗ۔ جب بھی بچے کسی چیز کی فرمائش کرتے ہیں تو والدین یہ کہہ دیتے ہیں ہاں بیٹا دیکھتے ہیں  ۔۔۔ جس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ نہیں ہم یہ کام با لکل نہیں کریں گے ، یا وہ والا کھلونا ہم آپ کو بالکل خرید کے نہیں دیں گے۔

Read Comments