دنیا کے کئی بڑے شہروں میں زیادہ آبادی ہونے کے باعث وہا ں ہر چیز بڑی تعداد میں ہی پائی جاتی ہے۔ یہی وج ہے کہ ایسے شہروں میں گاڑیاں بھی بہت ساری پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے شہر میں گاڑیوں کا شور و غل بھی بہت ہوتا ہے۔
شورکو ہم عام زندگی میں کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے، لیکن آہستہ آہستہ شور کے ذریعے سے انسانی صحت پراتنے خطرناک اثرات پڑتے ہیں کہ آئندہ زندگی میں اس کا علاج مشکل ہوجاتا ہے۔
بڑے شہروں میں خریدفروخت کے مراکز اور وہ علاقے جہاں ٹریفک کادباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے، اس کے قریب میں رہنے والے لوگوں کی صحت بھی اس مستقل شور سے بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ شور کی وجہ سے وہاں رہنے والوں کے ساتھ ساتھ آنے والوں کی صحت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
شور کی وجہ سے انسانی جسم کے ہارمونوں پر بھی اثرپڑتا ہے، جودیگر امراض کے علاوہ دل کی بیمار کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ اکثر لوگوں کو مسلسل سرکے درد کی شکایت رہتی ہے۔ مزید یہ کہ شورکی وجہ سے مزاج میں چڑچڑے پن، ہائی بلڈپریشر، ذہنی تناؤ اور مسلسل بے خوابی کی شکایت بھی رہتی ہے ۔ شورکی وجہ سے بہرے پن میں بہت اضافہ ہورہاہے اور بچوں کی پڑھائی بھی متاثر ہورہی ہے ۔
مختصراًہم کہہ سکتے ہیں کہ شور کے نقصانات کو اہمیت نہ دینے کی وجہ سے انسانی صحت تباہ ہوتی جارہی ہے۔ اگر انسان شور والی جگہوں سے دور رہے تو بہت ساری بیماریوں سے بچ سکتا ہے۔ انسان ایک حد تک شور کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اُس حد سے بڑھنے سے صحت متاثر ہوتی ہے۔
انسانی صحت کے بچانے کے لیے سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کواپنا کردار ادا کرنا چاہیئے ، تاکہ گنجان آباد علاقوں اور خریدوفروخت کے مراکز میں شور کی آوازیں ایک حد سے زیادہ نہ بڑھیں۔ اگر افراد صحت مند ہوں گے تو معاشرہ صحت مند ہوگا اور معاشرہ صحت مند ہوگا تو ملک ترقی کرے گا۔
اگر صحت ہی نہیں ہوگی تو یہ ترقی اور یہ خوب صورت تجارتی مراکز ہمارے کس کام آئیں گے؟ ہم سب کو اس خاموش قاتل، یعنی شور کوقابو میں رکھنے کے لیے انتہائی سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔