Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
سندھ ہائی کورٹ نے رینجرزکی مداخلت ک معاملے پرڈاکٹرعاصم کی والدہ اعجاز فاطمہ کی جانب سے دائردرخواست پرحکومت سندھ،ڈی جی رینجرز،آئی جی سندھ کونوٹسز جاری کردیئے،سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس احمد علی ایم شیخ پرمشتمل دو رکنی بینچ نے ڈاکٹرعاصم کے معاملے میں رینجرزکی مداخلت کیخلاف درخواست کی سماعت کی۔ڈاکٹراعجاز فاطمہ کی جانب سے دائردرخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ڈاکٹرعاصم سے پولیس تفتیش کررہی ہے اور رینجر ز تفتیش پراثراندازہورہی ہے،درخواست میں استدعا کی گئی کہ رینجرزکوتفتیش پراثراندازہونے سے روکا جائے اورپولیس کو آزادانہ تفتیش کرنے دی جائے۔درخواست میں کہا گیا کہ رینجرز نے ڈاکٹرنوے روز اپنی تحویل میں رکھااور اب بھی وہ تفتیش میں مداخلت کررہی ہے،عدالت نے درخواست گزار کا موقف سنتے ہوئے حکومت سندھ، ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ کو 15 دسمبر تک نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
سندھ ہائی کورٹ نے رینجرزکی مداخلت ک معاملے پرڈاکٹرعاصم کی والدہ اعجاز فاطمہ کی جانب سے دائردرخواست پرحکومت سندھ،ڈی جی رینجرز،آئی جی سندھ کونوٹسز جاری کردیئے،سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس احمد علی ایم شیخ پرمشتمل دو رکنی بینچ نے ڈاکٹرعاصم کے معاملے میں رینجرزکی مداخلت کیخلاف درخواست کی سماعت کی۔
ڈاکٹراعجاز فاطمہ کی جانب سے دائردرخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ڈاکٹرعاصم سے پولیس تفتیش کررہی ہے اور رینجر ز تفتیش پراثراندازہورہی ہے،درخواست میں استدعا کی گئی کہ رینجرزکوتفتیش پراثراندازہونے سے روکا جائے اورپولیس کو آزادانہ تفتیش کرنے دی جائے۔درخواست میں کہا گیا کہ رینجرز نے ڈاکٹرنوے روز اپنی تحویل میں رکھااور اب بھی وہ تفتیش میں مداخلت کررہی ہے،عدالت نے درخواست گزار کا موقف سنتے ہوئے حکومت سندھ، ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ کو 15 دسمبر تک نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔