Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
اسلام آباد:وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے خطاب میں جہاں اپنے اور اپنے خاندان کے اوپر اٹھنے والے سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی وہیں،مخالفین سے بھی کچھ سوالات کے جواب اور کچھ معاملات کا حساب مانگ لیا۔
وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے خطاب میں خود پر تنقید کرنے والوں کو خصوصاً مخاطب کیا۔وزیراعظم نے مخالفین سے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے اہم سوالات کئے۔وزیراعظم نواز نے کہا کہ سعودی عرب کس نے اور کیوں بھیجا ؟منتخب وزیراعظم کو ہتھکڑیاں لگا کر کال کوٹری میں کس نے بھیجا؟اس وقت سپریم کورٹ کو جگانے کی کوشش کیوں نہیں کی َ؟رہائش گاہ پرتالے لگائے گئے تونیکی کے پتلوں کی زبان پرتالے پڑ گئے؟
وزیراعظم نواز شریف نے خود سے اثاثوں اور ٹیکس کا حساب منگنے والوں کو مخاطب کیا۔انہوں نے کہا ذرا ان کا بھی حساب ہوجائے جو آج حساب مانگنے نکلے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا سترہویں آئینی ترمیم کا حساب کون دے گا؟ججوں کو نظربند کرنے کا حساب کون دے گا؟کارکنوں پرتشدد کا حساب کون دے گا؟ہائی جیکنگ کا حساب کون دے گا؟پارلیمنٹ پر حملے کا حساب کون دے گا؟دھرنے سے اربوں روپے کے نقصان کا حساب کون دے گا؟ بہتان تراشی اور جھوٹ کا حساب کون دے گا؟وزیراعظم نے قوم کے خطاب کے ذریعے مخالفین کی شکایات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔کیا اپوزیشن بھی وزیراعظم کے سوالات کا جواب دے گی؟