Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
اسلام آباد:حکومت نے وزیراعظم کے اعلان کے عین مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کو پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کیلئے خط لکھ دیا ہے اور یہ خط سپریم کورٹ رجسٹرار کو موصول ہوگیا ہے ، خط میں کہا گیا ہے کہ کمیشن پاناما لیکس میں شامل افراد اور کرپشن کے ذریعے ملک سے باہر پیسہ بھجوانے والوں کی تحقیقات کرے ، اور ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی بھی سفارش کرے۔
پاناما لیکس کی تحقیقات پر وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے ریٹائرڈ جج کی زیر نگرانی انکوائری کمیشن کے مطالبے کو رد کئے جانے کے بعد حکومت نے ایک بار پھر اپوزیش کی مان لی۔
وزیراعظم نے اپوزیشن کے مطالبے کے مطابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کو کمیشن بنانے کیلئے خط لکھ دیا۔خط میں کہا گیا ہے کہ ایسا کمیشن تشکیل دیا جائے جو پاناما لیکس میں شامل افراد اور آف شور کمپنیز کی تحقیقات کرے،یہ کمیشن سیاسی اثرورسوخ کے ذریعے بینکوں سے قرضے معاف کروانے والوں کی بھی تحقیقات کرے۔
کمیشن کو کسی بھی شخص یا دستاویزات طلب کرنے کا اختیار ہوگا۔کمیشن کسی بھی عدالت سے کوئی بھی پبلک ریکارڈ طلب کرسکتا ہے۔گزیٹڈ افسر کہیں سے بھی دستاویزات حاصل کرنے کا مجاز ہوگا۔تمام وفاقی اور صوبائی ادارے کمیشن کی معاونت کے پابند ہوں گے۔کمیشن اپنی رپورٹ حکومت کو اپنے ضابطے کے مطابق دینے کا پابند ہوگا۔کمیشن اپنی مدت کا فیصلہ خود کرے گا۔
موجودہ اور سابقہ سرکاری عہدیداران کی کرپشن ثابت ہونے پر یہ کمیشن ان افراد کیخلاف کارروائی کی بھی سفارشات کرے۔ انکوائری کمیشن انیس سو چھپن کے ایکٹ کے تحت بنایا جائے۔