بیسن عام طور پر ہمارے گھروں میں پکوڑوں کے لیے ہی استعمال کیا جاتا ہے اور اکثر گھروں میں تو بیسن آتا ہی رمضانوں میں ہے۔کیونکہ رمضانوں میں پکوڑے شوق سے کھائے جاتے ہیں اور افطار میں پکوڑے نہ ہوں تو کچھ ادھورا سا محسوس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بیسن کے ذریعے مزے مزے کے لڈو بھی تیار کیے جاتے ہیں، اس کے علاوہ بھی بیسن کے ذریعے کئی ساری ڈشز تیار کی جاتی ہیں۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ بیسن صرف پکوڑوں اور لڈو کے لیے ہی نہیں بنا، بلکہ بیسن بہت سارے جلدی امراض کےلیے بھی بے حد فائدہ مند ہے؟
بیسن جوکہ چنے کی دال کو پیس کے بنایا جاتا ہے، اس کو قدیم زمانے میں جلد کو خوبصورت بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور یہ عمل آج بھی جاری ہے۔ آج کے زمانے میں بھی لوگ بیسن کو جلد کو خوبصورت بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
بیسن کی یہ خاصیت ہے کہ یہ جلد کو گہرائی تک صاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس کے ذریعے جلد کی گہرائی میں موجود میل اور گندگی کو با آسانی صاف کیا جاسکتا ہے۔پرانے زمانے میں بیسن کو اسکرب کے طور استعمال کیا جاتا تھا۔
بیسن کے استعمال سے آپ کی جلد نرم و ملائم اور گولڈن رنگ کی ہوجاتی ہے۔ بیسن چہرے پر موجود دانوں کو بھگانے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ افراد جو روزانہ گھر سے باہر جاتے ہیں،ٹریفک کے دھوے ، مٹی اور گرد آلودگی کے باعث میل ان کی جلد میں جمع ہوجاتا ہے ، بیسن اس طرح کے تمام میل کچیل اور گندگی کو صاف کرنے میں انتہائی کار آمد ثابت ہوتا ہے۔
بیسن استعمال کرنے سے پہلے یہ ضرور خیال رکھیں کہ کہیں بیسن پرانا نہیں ہو اور موٹا پیسا ہوا نہیں ہو۔ اگر بیسن پرانا اور موٹا پیسا ہوا ہوگا تو اس سے آپ کی جلد میں خراشیں پڑ سکتی ہیں۔
بیسن کے اور کیا کیا فائدے ہیں آئیے جانتے ہیں۔۔
٭ خشک جلد کے لئے
بیسن صرف چکنی جلد کی حفاظت کے لئے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ حیرت انگیز طور پر خشک جلد کے لئے بھی نہایت بہترین ثابت ہوتا ہے بیسن مختلف اقسام کی جلد پر مختلف طریقہ کار کو عمل میں لا کر استعمال میں لایا جاتا ہے۔
ایک پیالی میں 2 کھانے کے چمچے بیسن لیں اور اس میں دودھ یا بالائی ، شہد اور 1 چٹکی ہلدی پاوٴڈر شامل کر کے بہترین سا پیسٹ بنالیں۔ اب اس فیس پیک کو پورے چہرے پرلگا کر 15 منٹ کے لئے چھوڑ دیں۔جب پیک خشک ہو جائے تو پانی سے دھو کر صاف کر لیں۔
٭ چکنی جلد کے لئے
چکنی جلد کے لئے بیسن کا پیک نہایت پر اثر ثابت ہوتا ہے۔ جلد کو نرم وملائم اور چمکدار بنانے میں بھی معاونت کرتا ہے۔ کسی کیمیائی اجزا سے بھر پور فیس واش یا صابن بار کو استعمال کرنے کے بجائے اگر دن میں دوبار بیسن میں چند قطرے لیموں کے شامل کر کے اس سے منہ دھویا جائے تو چہرہ نکھرا نکھرا نظر آئے گا ۔
٭ کیل مہاسے اور دانوں کے لئے
دانے اور پھوڑے پھنسیاں جلد کی سطح پر گہرے بدنما داغ دھبے چھوڑ جاتے ہیں، اپیمپلز کی شکار جلد انتہائی حساس ہو جاتی ہے۔ ۔ بیسن میں شہد کو اچھی طرح مکس کر کے پیسٹ بنالیں اور پورے چہرے پر اپلائی کر لیں۔
فیس پیک خشک ہونے کے بعد پانی سے نہایت نرمی وملائمت کے ساتھ صاف کر لیں۔ آپ اس فیس پیک کو روزانہ کی بنیاد پر لگانے کے عمل کو یقینی بنالیں۔
جلد پر داغ دھبوں کیلئے
داغ دھبے اور نشانات جلد کی ساخت کو ناہموار اور کھر درا بنا دیتے ہیں۔ چنانچہ بے داغ وشگفتہ جلد پانے کیلئے پمپلز کا علاج کرنا نہایت اہمیت رکھتا ہے ۔ ایکنی وپمیپلز کے داغ دھبوں کوختم کرنے کے لئے بیسن میں کھیرے کا رس شامل کر کے پیسٹ تیار کر لیں اور اس فیس پیک کو پورے چہرے پر اپلائی کر لیں۔ خشک ہو جائے تو نیم گرم پانی سے دھولیں۔ اس پیک کو روزانہ باقاعدگی سے دن میں ایک بار ضرور لگائیں۔