Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
اسلام آباد:اپوزیشن نے پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے مجوزہ عدالتی کمیشن کے ٹی او آر کو متنازع قرار دے دیا۔ خورشید شاہ کے بعد عمران خان نے کمیشن کے اختیارات مسترد کردیئے، کہتے ہیں حکومت کا کمیشن بنانے کا اعلان ایک مذاق ہے،اگر کمیشن اتنے سارے لوگوں کا احتساب کرے گا تو نتیجہ نکلنے میں دس سال لگ جائیں گے، احتساب سب سے پہلے وزیراعظم سے شروع ہو اور کمیشن کے ساتھ فرانزک کمپنیز کی خدمات بھی حاصل کی جائیں، اگر مطالبات نہ مانے گئے تو ہم سڑکوں پر آئیں گے۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے حکومت کی جانب سے مجوزہ کمیشن کے اختیارات کو ایک مذاق قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔عمران خان نے حکومت کووارننگ دی ہے کہ اگر فرانزک ایکسپرٹس کے ساتھ بااختیار کمیشن نہ بنایا گیا توان کے پاس رائیونڈ جانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ ہوگا۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ نواز شریف سے تفتیش ہورہی ہے اور وہی ٹی او آر بنارہے ہیں، کیا یہ تضاد نہیں،عمران خان نے کہا کہ اس کمیشن کی سول کورٹ سے زیادہ پاور نہیں ہیں۔اس انکوائری کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔اس کمیشن میں کوئی فرانزک کمپنی کو نہیں ڈالا۔ٹی او آر میں ٹیکس چوری کی کوئی ریفرنس ہی نہیں ہے۔اتنے لوگوں کا احتساب ہوا تو اس میں کئی سال لگ جائیں گے۔
عمران خان نے مطالبہ کیا کہ کمیشن چیف جسٹس کی سربراہی میں بنایا جائے اور یہ کمیشن صرف وزیراعظم کا احتساب کرے۔ٹی او آر اپوزیشن کی مشاورت سے طے کئے جائیں۔انٹرنیشنل فرانزک فرم سے آڈٹ کرائی جائے۔عمران خان نے کہا میاں صاحب پر ٹیکس چور، منی لانڈرنگ، الیکشن کمیشن سے حقائق چھپانے اور کرپشن کا الزام ہے۔صفائی پیش کئے بغیر میاں صاحب کسی صورت حکومت نہیں کرسکتے۔