Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
کراچی :اورنگی ٹاون میں سات پولیس اہلکاروں کے قتل کی تحقیقات نے پولیس کے شعبہ تفتیش کی کارکردگی کا پول کھول دیا، واردات میں استعمال ہتھیاروں سے پہلے سترہ افراد کو قتل کیا گیا، جن میں سے دس کے قاتل پکڑے گئے، لیکن آج تک ہتھیار برآمد نہیں ہوئے، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا نوجوان بھی پولیس کے سامنے پیش ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق اورنگی ٹاون میں سات پولیس اہلکاروں کے قتل میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں سے متعلق رپورٹ سندھ پولیس کے فرنسک ڈویژن آئی جی سندھ کو ارسال کی۔رپورٹ متعلقہ ایس پی آفس پہنچی تو انکشاف ہوا کہ رپورٹ میں سترہ مقدمات میں مذکورہ ہتھیار استعمال ہونے کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ان میں سے دس مقدمات پولیس حل کرچکی ہے۔
شعبہ تفتیش کے مطابق مقدمات میں گرفتار ملزمان کا تعلق دو مختلف گروہوں سے ہے اور ان مقدمات میں سے سات کا چالان بھی عدالتوں میں پیش کیا جاچکا ہے،لیکن کمال فن یہ ہے کہ پولیس آج تک ایک بھی ملزم سے یہ ہتھیار برآمد نہ کرسکی۔
ذرائع کے مطابق شعبہ تفتیش نے نااہلی چھپانے کیلئے نیا اعلٰی کیا ہے کہ مذکورہ ہتھیار ٹارگیٹ کلرز کرائے پر حاصل کرتے ہیں۔ذرائع کے مطابق سی سی ٹی وی میں واردات والے روز بریانی سینٹر سے ٹوکن لیتے ہوئے نظر آنے والا مشتبہ نوجوان بھی پولیس کے سامنے پیش ہوگیا تھا جسے پوچھ گچھ کے بعد کلیئر قرار دے دیا گیا ہے۔