Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
اسلام آباد:سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ لیہ میں لوگ زہریلی مٹھائی کھانے سے مر گئے، وہاں دوا ہی نہیں تھی کہ علاج ہوتا، امیر آدمی تو علاج کروا لیتا ہے لیکن مڈل کلاس علاج کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ شعبہ صحت کی ہی صحت خراب ہو تو عدالت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
سپریم کورٹ میں قائم مقام چیف جسٹس ثاقب نثار کی زیر سربراہی تین رکنی بنچ نے دواوٴں کی قلت کے باعث امراض قلب کے مریضوں کی اموات پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔
جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ پنجاب میں کہیں ٹانکے لگانے والی مشین نہیں، کہیں انکیوبیٹرز نہیں، کہیں ایک کالج کیلئے پانچ سو بیڈ کی ضرورت ہے وہ کہاں پوری ہو رہی ہے، شعبہ صحت کی اپنی صحت خراب ہے، کسی حکومت کو نشانہ نہیں بنا رہے لیکن جہاں بھی خامیاں نظر آئیں، ضرور پوچھیں گے، اس معاملے میں اپنی ذمہ داری سے منہ نہیں پھیر سکتے۔
جسٹس اقبال حمید الرحمان کے نے کہا کہ لیہ میں زہریلی مٹھائی کھانے سے لوگ مرگئے وہاں دوا ہی نہیں تھی کہ علاج ہوتا،ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نے پی ایم ڈی سی رپورٹ پیش کرتے ہوئے رپورٹ کی خامیاں درست کرنے کیلئے مہلت طلب کی، عدالت نے انہیں دس روز میں ترمیم شدہ رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت کی،پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے بھی ترمیمی جواب داخل کرنے کیلئے وقت مانگ لیاعدالت نے پی ایم ڈی سی، وفاق اور چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو چودہ دن میں جواب داخل کرانے کا حکم دیا۔سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت مئی کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کر دی اور کہا کہ آئندہ سماعت کے بعد کیس روزانہ کی بنیاد پر سنا جائیگا۔