اپ ڈیٹ 28 اپريل 2016 09:26am

آپ کی ڈانٹ سے بچہ موٹاپے کا شکار ہوسکتا ہے

والدین اکثر اپنے بچوں کو ہر چھوٹی بات پر ڈانٹ دیتے ہیں  کہ اس ڈانٹ سے بچوں کی اصلاح ہوجائے گی۔ لیکن ایسا بالکل بھی درست نہیں ہے۔ کیونکہ آپ کی ڈانٹ بچے کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچوں پر بے جا سختی ان کی صحت کو متاثر کرتی ہے اور والدین کی ڈانٹ ڈپٹ بچوں کو موٹاپے کی طرف لے جاتی ہے۔ جب بچے بڑے ہوتے ہیں تو اس ڈانٹ ڈپٹ  کے باعث ان کی صحت بھی خراب ہوجاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ضروری نہیں ہے کہ آپ کی ہر ڈانٹ بچے کے لیے فائدہ مند ہو۔لہذا بچوں کے ساتھ  زیادہ ڈانٹ ڈپٹ کرنا چھوڑ دیں،کیونکہ یہ ڈانٹ آگے چل کے بچوں کی صحت پر برا اثر ڈال سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بچوں کو دماغ حساس ہوتا ہے، جس کے باعث بچے چھوٹی سے چھوٹی بات بھی دل پر لی لیتے ہیں۔ وہ والدین جو اپنے بچوں کے ساتھ بہت  سختی کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ بچوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں۔

بچوں پر بے جا حکم مسلط نہ کیے جائیں، اگر وہ شرارتیں کررہے ہیں تو ان کو کرنے دیں، کیونکہ بچے شرارتوں سے ہی سیکھتے ہیں۔اگر آپ ان کو شرارتیں کرنے سے روکیں گے تو وہ اپنی زندگی میں کچھ الگ نہیں سیکھ سکے گے، بلکہ مسلسل پابندیوں میں رہنے سے بچہ چڑچڑے پن کا شکار ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جو بچے زیادہ ڈانٹ ڈپٹ سنتے ہیں ، ان کا وزن بڑھنا شروع ہوجاتا ہے اور بچے موٹے ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔یہ تمام چیزیں ان کی صحت کی خرابی کا باعث بنتی ہیں۔

چونکہ بچے ہر بات دل پر لے لیتے ہیں ، لہذا جب ان کے والدین کسی غلطی پر ان کو ڈانتے ہیں تو وہ ڈانٹ ان کے دماغ میں نقش ہوجاتی ہے اور یہ ڈانٹ  ان کو مسلسل ان کو یہ احساس دلاتی رہتی ہے کہ ان کے والدین ان سے پیار نہیں کرتے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر آپ اپنے بچے کو صحت مند اور خوش رکھنا چاہتے ہیں تو اپنے بچے کو ڈانٹنا چھوڑ دیں، ان کو پیار سے سمجھا دیں لیکن ڈانٹ سے بچے کبھی بھی کچھ نہیں سیکھتے بلکہ ڈانٹ ان کے دماغ پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔جس کے باعث ان کی صحت خراب ہونے لگتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون محض عام معلومات عامہ کیلئے ہے۔

Read Comments