لالی ووڈ فلم مالک ریلیز کے بعدمسلسل تنازعات کا شکار ہے،ملک بھر کے سینما گھروں میں فلم کی نمائش پر ایک بار پھر پابندی لگا دی گئی ہے اور اس بار پابندی کا اعلان وفاقی حکومت کی جانب سے کیا گیا ہے۔
پاکستانی تاریخ کے مشہور ترین ڈرامے دھواں سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے ہدایتکار، مصنف اور پروڈیوسر عاشر عظیم کی بڑے پردے پر پہلی کاوش پابندی کی زد میں آ گئی ہے۔فلم مالک آٹھ اپریل کو نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی۔فلم مالک میں سیاست میں طاقت کے ناجائز استعمال کو موضوع بنایا گیا ہے۔
وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پابندی انیس سو اناسی کے موشن پکچرز آرڈیننس کی شق نو کے تحت لگائی گئی ہے،تاہم پابندی لگانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور کہا جا رہا ہے کہ یہ قدم لوگوں کی شکایت پر اٹھایا گیا ہے۔
گزشتہ روز سندھ میں فلم کی نمائش پر پابندی لگائی گئی جسے چند گھنٹوں بعد واپس لے لیا گیا،تاہم فلم میں سی ایم کے لفظ کو حذف کرنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے۔
جبکہ دوسری طرف فلم مالک پر پابندی عائد کرنے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے ۔
لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے والے محبوب عالم ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستانی فلم مالک کرپشن کے خلاف بنائی گئی ہے، جس سے عوام کو تفریح کے ساتھ آگاہی حاصل ہوئی،فلم نہ تو اسلام اور نہ ہی پاکستان کے مفادات کے خلاف بنائی گئی ہے،سینسر بورڈ نے فلم کو این او سی جاری کیا،مگر نمائش کے چند روز بعد وفاقی حکومت نے نمائش پر پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کردیا۔عدالت حکومت کی جانب سے جاری پابندی کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے اور درخواست کے فیصلے تک حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے نمائش کی اجازت دے۔