Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے ہم نے خود کو سپریم کورٹ کے سپرد کردیا ہے،سپریم کورٹ جیسے چاہتی ہے تحقیقات کرے تعاون کرینگے،چیف جسٹس چاہیں تو ٹی او آرز میں ترمیم کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے ایک بار پھر ملاقات کیلئے مخصوص صحافیوں کو بلایا اور ان کو پہلے سے دئیے گئے سوالوں کے جواب دیتے رہے۔
وزیراعظم نوازشریف نے اپنے دل کی بات کہنے کیلئے دل پسند صحافیوں کو گونر ہاوٴس لاہورمدعوکیا اور پاناما لیکس کے حوالے سے حکومت کی خوب صفائی پیش کی ۔وزیراعظم نے کہا کہ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ انہیں اسلام آباد میں نظر نہ آئیں۔ وہ نہ پہلے کسی کے سامنے جھکے ہیں اور نہ اب جھکیں گے، کون کتنا مضبوط ہے اس کا فیصلہ انتخابات کریں گے۔
تاہم وزیراعظم نے اپوزیشن کی جانب سے ٹی او آرز پر اعتراض کا معاملہ بھی چیف جسٹس پر چھوڑدیا، بولے چیف جسٹس چاہیں تو ٹی او آرز میں ترمیم کریں یا کوئی بھی طریقہ کاروضع کریں،میں نے خود کو سپریم کورٹ کے سپرد کردیا ہے،سپریم کورٹ جیسے چاہتی ہے تحقیقات کرے، وہ تعاون کرینگے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ان کا ہمیشہ احتساب ہوتا رہا ہے،مشرف نے نو سال تک ان کا احتساب کیا مگر کچھ نہیں نکلا،ایک صحافی کو پہلے سے دئیے گئے اس سوال پر کہ خان صاحب کا علاج کیا ہے، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خان صاحب لاعلاج ہیں۔