کوئٹہ:نیب کی تحویل میں بلوچستان کے سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی نے کرپشن کا اعتراف کرلیا۔
بلوچستان کے سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی نے بلدیاتی فنڈز میں خرد برد کرنے والے اپنے11 سہولت کاروں کے نام بتادیئے ہیں۔
جن کی نیب نے تلاش شروع کردی ہے، شریک ملزمان کا بینک ریکارڈ بھی حاصل کرلیا گیا ہے، جلد مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔
بلدیاتی فنڈ میں خرد برد کے کیس میں پیشرفت ہورہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ،مرکزی ملزم اور سابق سیکریٹری خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی نے 14 روزہ ریمانڈ کے پہلے ہی روزگیارہ سہولت کاروں کے نام اگل دیئےہیں۔
ملزمان کے اکاؤنٹس سے ہونے والی ٹرانزیکشنز کی تفصیلات چیک کی جارہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق سہولت کاروں میں گریڈ 14 کے ایک ملازم بھی شامل ہیں، سیکریٹری خزانہ کی گرفتاری کے بعد تمام ملزمان روپوش ہوگئے ہیں ۔
بلوچستان میں 2010 سے لوکل گورنمنٹ کیلئے سالانہ 6 ارب روپے ترقیاتی بجٹ جاری کیا جاتا ہے۔
چھ سالوں میں یہ رقم 36 ارب روپے بنتی ہےلیکن یہ ترقیاتی بجٹ لوکل گورنمنٹ کو نہیں ملا۔
ڈی جی نیب بلوچستان طارق محمود نے گزشتہ روز کہا تھا کہ نیب 400سے زائد بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کیخلاف چھان بین کررہا ہے۔
امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ مشتاق رئیسانی کے گھر سے ملنے والے 63 کروڑ روپے میں کئی حصہ دار تھے، جن کی گرفتاری جلد متوقع ہیں۔