Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
سوات: بچوں کی گمشدگی کا معمہ بالاآخر حل کرلیا گیا، پولیس نے بچوں کو اغواء کرنے، جنسی تشدد اور ہراساں کرنے والے 3 رکنی گروہ کو گرفتار کرلیا۔
سوات میں گزشتہ 3 سال میں کئی بچے اغوا ءہوئےبچوں کے اغوا ءکی یہ وارداتیں دن دھاڑے کی جارہی تھیں۔
تین رکنی اغواء کرنے والا گروہ اس مکروہ کام میں ملوث تھا گروہ کاسربراہ اورنگزیب عرف رنگے تھا جس کا سوات میں چمڑےکا کارخانہ تھاجو بچوں کو اغوا ءکرکے کارخانے کے تہہ خانے میں قید کرکے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا کرتا تھا۔
اس گروہ کا انکشاف اس وقت ہوا جب ایک بچہ تہہ خانےسے فرار ہوکر اپنے گھر پہنچاجس نے بتایا کہ اس مکروہ دھندے میں اس گینگ علاوہ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
پولیس نے کارروائی کی، اغواء کئے گئے 2 بچوں سمیت اور نگزیب سمیت اس کے 2ساتھیوں کو پکڑ لیا۔
ڈی ایس پی صدیق اکبر کی سربراہی میں 3 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔
ملزم کو عدالت میں پیش کر کے 2 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوا لے کر دیا گیا۔
ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم اورنگزیب نے 22 بچوں پر جنسی تشدد کا اعتراف کر لیا۔