Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
اسلام آباد:چیف جسٹس نے پاناما لیکس کیلئے تحقیقاتی کمیشن بنانے کے فیصلے کو حکومت کی جانب سے معلومات کی فراہمی اورمناسب قانونی سازی سے مشروط کردیا، حکومت کو لکھے گئے خط میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومتی ٹی اور آرز پر انیس سے چھپن کے ایکٹ کے تحت بننے والا کمیشن بے اختیار ہوگا اور اسکی تحقیقات میں برسوں لگیں گے۔ کمیشن بنانے کا حتمی فیصلہ اسوقت تک نہیں کیا جاسکتا جب تک حکومت ان تمام افراد کی تفصیلات فراہم کردے جنکے خلاف تحقیقات کرنا ہیں۔
پاناما پیپرزکی تحقیقات کیلئے حکومت کی جانب سے کمیشن بنانے کی درخواست پر سپریم کورٹ کا موقف بھی سامنے آگیا،اپوزیشن کے بعد چیف جسٹس نے بھی مجوزہ کمیشن کے لئے حکومتی ٹی او آرز پر اپنے تحفظات کا اظہارکردیا۔
حکومت کو لکھے گئے خط میں واضح کیا گیا ہے کہ انیس سو چھپن کے ایکٹ کے تحت بنائے گئے کمیشن کا دائرہ اختیار انتہائی محدود ہوگا۔یہ کمیشن بے اختیار ہوگا اور سوائے بدنامی کے اسکا کوئی فائدہ نہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کے ٹی او آر اتنے وسیع ہیں کہ اگر ان کی بنیاد پر تحقیقات ہوئیں تو برسوں لگیں گے۔اس لئے حکومت سے کہا گیا ہے کہ کسی بھی کمیشن کی تشکیل سے پہلے ضروری ہے کہ ان تمام افراد، خاندانوں، گروپس اور کمپینز کی لسٹ فراہم کی جائے جنکی تحقیقات ہونا ہے۔ان افراد کی تعداد اور دیگر تفصیلات سے بھی آگاہ کیا جائے۔
خط میں لکھا گیا ہے کہ جب عدالت کو تک یہ تمام معلومات نہ فراہم کردی جائیں اور کمیشن کی تشکیل کیلئے مناسب قانون سازی نہ کرلی جائے اس وقت تک جوڈیشل کمیشن بنانے کے حوالے سے حکومتی خط کا حتمی جواب نہیں دیا جاسکتا۔