شائع 14 مئ 2016 03:45pm

ہفتے میں چالیس گھنٹے سے زیادہ کام نقصان دہ ہوسکتا ہے،تحقیق

ایک ہفتے میں چالیس گھنٹے سے زائد کام کرناملازمین کی صحت کیلئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کی تحقیق کے مطابق دن میں دس گھنٹے سے زائد کام کرنے والے افراد میں ذہنی تناؤ کے باعث امراض قلب کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور ذہنی تناؤ کے نتیجے میں ہارمونز غیر متوازن ہو جاتے ہیں۔

تحقیق کے دوران مختلف کمپنیوں کے ملازمین سے متعلق اعدادو شمار اکھٹے کئے گئے۔رپورٹ کے مطابق روزانہ گیارہ گھنٹے یا اس سے زائد گھنٹے کام کرنے والے افراد میں مایوسی بڑھ جاتی ہے،ہفتے میں پچاس سے ساٹھ گھنٹے کام کرنے والے افراد میں سے دس فیصد افراد سنگین مسائل کا شکارہوتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پریشانی میں اضافے کی وجہ سے کارٹیسول نامی ہارمونز بھی بڑھ جاتے ہیں،جو نیند، بھوک، بلڈ پریشر، مدافعتی نظام، یادشت اور مزاج کے علاوہ دیگر عوامل پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایک ہفتےمیں چالیس گھنٹے سے زائد کام کرنے والے افراد میں الکوحل اور تمباکو کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے۔

چالیس گھنٹوں سے زائد کام کرنے والی خواتین ذہنی تناؤ کا شکار نظر آتی ہیں جبکہ مردوں میں اوور ٹائم وزن میں بھی اضافے کا باعث بنتا ہے۔

اوورٹائم کرنے والے چون فیصد ملازمین میں غیر حاضری کا تناسب نو فیصد ہوتا ہے جبکہ  دیر تک کام کرنے والے افراد میں چوٹ لگنے کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ دیر تک کام کرنےسے نہ صرف ملازمین کی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ یہ کمپنی کیلئے بھی فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا۔

Read Comments