Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
کراچی :کراچی میں بلدیاتی اداروں کی تشکیل اور میئر کے انتخاب میں تاخیر سے شہر کا کوئی پرسان حال نہیں رہا، پانی بجلی جیسے بنیادی مسائل تو کجا، جگہ جگہ کوڑا کرکٹ کراچی کے لئے وبال جان بن چکا ہے، رہی سہی کسر منتخب بلدیاتی نمائندوں اور بیوروکریسی کے درمیان رسہ کشی نے پوری کردی
کچرے سے لبا لب بھری یہ کوئی کچرا کنڈی نہیں،بلکہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی جائے پیدائش ''وزیر مینشن'' ہے،کراچی میں کچرا اتنا بڑھ گیا کہ قومی ورثے تک جاپہنچا،دنیا جدید دور پر گامزن ہے اور ہمارے بلدیاتی ادارے اور صوبائی حکومت کھینچا تانی میں پڑی ہیں۔
وزیر مینشن پر ایم کیوایم کے نامزد میئر وسیم اختر بھی اختیارات دو کا ہی مطالبہ کرتے رہے،ادھر عدالت حاضری کے موقعے پر فکس اٹ مہم کے بانی عالمگیر کہتے ہیں کہ شہر میں گندگی کیخلاف آواز اٹھانے کی سزامل رہی ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن نے بھی نیٹی جیٹ پل پر احتجاجی کیمپ قائم کررکھا ہے۔بلدیاتی انتخابات جیتنے والے نمائندوں نے مسائل کا ذمہ دار بیوروکریسی کو ٹہرایا۔وزیراعلیٰ سندھ نے شہر کی خستہ حالی کے پیش نظر مرمتی کاموں، صفائی ستھرائی کیلئے پندرہ سوملین روپے کی گرانٹ تو منظورکرلی ہے لیکن عوامی حلقوں کو بس اس بات کا انتظار ہے کہ خدا کرے یہ پیسہ عملی طور پر مسائل حل کیلئے خرچ ہو۔