مزید پڑھئیے: حکومت کا کام مجھ پر تنقید کرنا نہیں، انکوائری کرنا ہے، عمران خان
اسلام آباد:قومی اسمبلی میں پاناما لیکس پر ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا ہے، علامہ اقبال شاہ ولی اللہ نے کہا وہ ملک تباہ ہوئے جہاں بادشاہت تھی۔جبکہ ہم جمہوریت سے شروع ہوئے اور بادشاہت پر چلے گئے۔
انھوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا فرض ہے ہمارے سوال کا جواب دے،انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نے بنی گالہ میں ان کے گھر کو محل سے تشبیہ دیتے ہوئے جو سوال کیا کہ اس کا پیسہ کہاں سے آرہا ہے ؟
تواس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ وزیر اعظم کے پاس اتھارٹی ہے کہ انکوائری کروائیں۔ وزیراعظم کاکام مجھ پر الزام لگانا نہیں بلکہ پکڑنا ہے۔
انھوں نے قومی اسمبلی کے اسپیکر سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوریت بچائیں ، فوج اور پولیس جمہوریت نہیں بچاتیں، جتنی جمہوریت مضبوط ہوتی ہے اتنا ہی ملک ترقی کرتا ہے۔
کرپشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'میں سیاست میں صرف ایک نقطے پر آیا کہ کرپشن کا خاتمہ کرسکوں'۔
جمائمہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا جمائمہ مسلمان ہوکر پاکستان آئی تو سیاست میں اسے یہودی کا ایجنٹ بنا دیا گیا۔
اپنے اثاثوں کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ میرا کوئی اثاثہ میرے بیوی بچوں کے نام نہیں سب کچھ میرے نا م ہے۔
شوکت خانم اسپتال کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ 1997 میں لوگوں نے شوکت خانم کیلئے چندہ دینا بند کردیا۔یہ لوگ ایک اسپتال کو تباہ کرنے کی کوشش اس لئے کر رہے ہیں کہ میں تنقید کر رہا ہوں، انھوں نے مزید کہا کہ میں پیشکش کرتا ہوں شوکت خانم اسپتال کے تمام اکاؤنٹس سامنے لائے جائیں ۔شوکت خانم کو ایک پلاٹ 1987 میں نواز شریف نے جبکہ ایک پلاٹ 1992 میں نواز شریف نے ہی دیے،دونوں پلاٹ میں شوکت خانم کو دیے۔
اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ 12 سال کر کٹ کھیل کرمیں نے انگلینڈ میں فلیٹ لیا، کوئی مجھے بتا دے کہ کیر ئیر کے دوران مجھ پر میچ فکسنگ کا الزام لگا؟
اپنےلندن میں موجود فلیٹ کے بار ے میں انھوں نے بتایا کہ میرے کئی انٹرویو ہوئے اس فلیٹ میں لیکن کبھی اس فلیٹ کو نہیں چھپایا،میاں صاحب نے پوچھا تیز ہوا سے فلیٹ اڑ گیا تو کیا ہوگا؟انھوں نے کہا کہ جن ٹی او آرز پر تحقیقات کرنی ہے تو اس پر میری بھی تحقیقات کریں۔
عمران خان نے مریم نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نواز شریف کی زیر کفالت تھیں ،مریم نواز دو کمپنیوں کی مالک ہیں، اس لئے وزیراعظم براہ راست ملوث ہوئے۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک میں کرپشن کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں ہوتی رپورٹ میں کہا گیا کہ جب کرپشن ہوتی ہے تو پیسہ آف شور کمپنیوں میں چلا جاتا ہے
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں آج اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے زیر صدارت اجلاس ہوا ، جس میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے پاناما سے متعلق بات کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ سوالات کے جواب نہ ملنے پر اجلاس کا بائیکاٹ کیا گیا۔
وزیر اعظم کا پاناما لیکس میں نام آنے سے انھوں نے کہا کہ چونکہ پانامالیکس کا معاملہ وزیر اعظم سے منسلک ہے، اس لیے وزیر اعظم کو بار بار کہا کہ پارلیمنٹ میں آکے خطاب کریں، ان کو کہا کہ آپ کا فورم پارلیمنٹ ہے۔ پارلیمنٹ میں ہمیں ہر مسئلے کا حل ڈھونڈنا ہے،اس میں ناراض ہونے والی کیا بات ہے؟
ٹیکس کے حوالے سے خورشید شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ 1939 میں قائد اعظم نے 4490 ٹیکس دیا اور آپ نے(وزیر اعظم ) 1992 میں 2700 ٹیکس دیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر کمپنی میں 8 سے 10 ڈائریکٹر ہیں اور 23 سال میں 13 کمپنیاں 10 ارب روپے کا ٹیکس دے رہی ہیں، وزیراعظم نے کہا ہم 10 ارب روپے کا ٹیکس دیتے ہیں۔