شائع 20 مئ 2016 08:22am

اب گرمی دانوں سے پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں

موسم گرما میں جلد کے مسائل نہایت شدت سے ابھر کے سامنے آتے ہیں۔ اس مسئلے کا خصوصی شکار خواتین ہوتی ہیں، کیونکہ سخت گرمی اور حبس کے موسم میں یہ دانے حدت کے قریب رہنے کی بدولت جلد پر ابھرتے ہیں۔ سرخ رنگ کے یہ ننھے ننھے دانے نہ صرف دیکھنے میں بدنما ہوتے ہیں بلکہ تکلیف کا باعث بھی ہوتے ہیں۔

تاہم یہ دانے خطرناک ہرگز نہیں ہوتے، اس کے برعکس انہیں متعدی قرار دینا زیادہ مناسب ہوگا۔کیونکہ ہر دانہ مخصوص مدت کے بعد خشک ہوکے جھڑ جاتا ہےنیز اس کا کوئی نشان یا داغ بھی باقی نہیں رہتا۔

تاہم بعض خواتین جو اپنی جلد کے معاملے میں معمول سے زیادہ حساس ہوتی ہیں۔وہ ان دانوں کے نکلنے پر بھی پریشانی کا شکار ہوجاتی ہیں اور ان کے خاتمے کے لیے انواع اقسام کی کریمیں اور ٹوٹکے استعمال کرتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں ان دانوں کا خاتمہ تو نہیں ہوتا البتہ جلد مزید خراب ہوجاتی ہے۔

ماہرین کی رائےمیں  گرمیوں میں جلد کو گرمی دانوں سے نچانے کا تو کوئی طریقہ موجود نہیں ہے، تاہم ان دانوں کی شدت اور خارش میں کمی کےلیے مختلف ٹوٹکے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔

اس حوالے سے سرفہرست تو کارن فلور ہے، جس کو گرمی دانوں پر لگانے سے نہ صرف دانے ختم ہوتے ہیں بلکہ ان دانوں میں ہونے والی جلن میں بھی نمایاں افاقہ ہوتا  ہے۔

اس کے علاوہ گرمی دانوں کے لیے دستیاب عام پریکلی ہیٹ پاؤڈر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے،لیکن چونکہ یہ مہنگا ہوتا ہے اور اس کے استعمال سے خواتین کو الرجی بھی ہوجاتی ہے۔

٭اس مقصد کے لیے اگر آپ چاہیں تو بورک پاؤڈر اور سادہ ٹیلکم پاؤڈر یکساں مقدار میں ملائیں، اب اس میں ٹیلکم پاؤڈر کی مقدار سے آدھی مقدار میں کارن فلور اور کوئی پرفیوم یا اپنی پسند کا ایسنس کے چند قطرے ملائیں

 اب ہاتھوں کی مدد سے اچھی طرح مکس کرکے کسی بھی پاؤڈر کے استعمال شدہ ڈبے میں بھر لیں اور استعمال کرلیں۔

٭ اس کے علاوہ گرمی دانے ختم کرنے کے لیے نیم کے پتوں کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے آپ کو نیم کے پتوں کو ابالنا ہو اور جسم کے جس حصے میں گرمی دانے ہیں ، اس حصے کو نیم کے پتوں کے پانی سے دھو لیں ۔

٭ اس کے علاوہ گرمی دانے دور کرنے کےلیے 2 سے 3 چائے کے چمچے تلسی کے پتے ایک پیالی  ابلتے پانی میں 10 سے 20 منٹ کےلیے ڈال دیں ۔ جب پانی ٹھنڈا ہوجائے تو متاثرہ حصے پر روئی کی مدد سے لگائیں۔

نوٹ: یہ مضمون محض عام معلومات عامہ کےلیے ہے، اس پر عمل کرنے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرلیں۔

Read Comments