قومی خزانہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں، سپریم کورٹ

اپ ڈیٹ 25 مئ 2016 09:46am

اسلام آباد:کسان پیکج  کیس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے بینچ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ قومی خزانہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں،کسان پیکج پارلیمنٹ میں کیوں پیش نہیں کیا گیا۔

سپریم کورٹ میں کسان پیکج کیس کی سماعت جسٹس اعجازافضل اورجسٹس قاضی فائزعیسی نے کی۔

 جسٹس فائزعیسی نے ریمارکس دیے کہ  کسان پیکج پر حکومت پارلیمنٹ کوبائی پاس کررہی ہے ۔ کسان پیکج کے اربوں روپے کسی قانونی اجازت کے بغیرجاری ہوگئے۔

 پارلیمنٹ سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری نہ دے تواربوں کی رقم کون واپس کرے گا۔ کسان پیکج کے 20 ارب خرچ کرکے پارلیمنٹ سے منظوری ربڑاسٹمپ ہوگی۔

پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد حکومت بے شک 20 ارب ایک دن میں تقسیم کردے ۔

 جسٹس قاضی فائزنےمزید کہا کہ قومی خزانہ کسی کا ذاتی نہیں ۔ حکومت کوکسان پیکیج کی منظوری رقم خرچ کرنے سے پہلے لینی چاہیے ۔ کسان پیکج کو پارلیمنٹ میں کیوں نہیں پیش کیا گیا ،پارلیمنٹ کو بائی پاس کیوں کیا گیا ۔

 جس پراٹارنی جنرل نے کہاکہ حکومت سوالات کے جواب دیتی ہے ، مفروضوں کے نہیں کیسے کہ سکتے ہیں کہ پارلیمنٹ کی منظوری ربڑسٹیمپ ہوگی ۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کوسنجیدہ اورحقائق پرمبنی دلائل دینے کا حکم دیتے ہوئے کسان پیکج کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی ۔

Read Comments