Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
کراچی :طالبان رہنما ملا اختر منصور کی ولی محمد کے نام سے پاکستانی شہریت نے نادرا کارکردگی پر کئی سوال اٹھادیئے ہیں،ایف آئی اے رپورٹ میں بھی انکشاف ہوا ہے کہ نادرا کراچی نے پانچ ہزار غیر ملکیوں کو قومی شناختی کارڈ جاری کیے ہیں، شناختی کارڈ حاصل کرنے والے بہت سے غیر ملکی تو پاسپورٹ لے کر بیرون ملک بھی جاچکے ہیں۔
نادرا کا کام تو پاکستانی شہریوں کو شناختی کارڈ جاری کرنا ہے مگر عملاٰ نادرا کے ملازمین ملک و قوم کے ساتھ جو کچھ کررہے ہیں اسکا ذکر الفاظ میں آسان نہیں ملکی شہریوں کو شدید دھوپ میں لائنوں میں کھڑا رکھنااور غیرملکیوں کو گھر بیٹھے پاکستانی بناناتو نادرا ملازمین کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔
دوہزار چودہ میں نادرا کے اپنے ہی ویجیلنس سیل نے نشاندہی کی کہ کراچی میں پانچ ہزار سے زائد غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ جاری کیے گئے۔رپورٹ موصول ہونے پر وزارت داخلہ نے معاملہ ایف آئی اے کے سپرد کیا۔تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ دوہزار نو سے دوہزار چودہ کے درمیان افغانی، ایرانی، بنگالی، برمی اور بھارتی شہریوں کو شناختی کارڈ جاری ہوئے ہیں اور ہزاروں غیر ملکیوں کو پاکستانی خاندانوں میں شامل کردیا گیا۔
بھارتی خاتون خیرالنسا چھ بیٹیوں سمیت پاکستانی ہوگئی۔پرانے شناختی کارڈ ریکارڈ کے مطابق خیرالنسا ممبئی میں پیدا ہوئیمگر نادرا نے ان کی پیدائش بونیرمیں کرائی، تین بیٹیاں بھی ایک ہی سال میں پیدا ہوئیں،دو بیٹیاں پاکستانی شہریت پرغیر ملکی ائیرلائین میں ملازمت کرتی ہیں۔زیادہ تر جعلی شناختی کارڈ اورنگی ٹاون، بلدیہ، نیوکراچی، لیاری، کیماڑی اور لانڈھی کے مراکز سے بنائے گئے۔
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران نادرا ملازمین نے بھرپور مزاحمت کی، کبھی ریکارڈ چھپایا گیا تو کبھی مطلوبہ افراد پیش نہ ہوئے اور شناختی کارڈ کا اجرا پرانے ریکارڈ سے کرنے کا بہانہ کیا گیا جس کا نقصان ملکی بدنامی کی صورت میں آج سامنے آرہا ہے۔