شائع 02 جون 2016 09:00am

کانوں میں ان چیزوں کا استعمال نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے

اکثر اوقات لوگ کانوں کی صفائی کے لیےکوٹن بڈ کے بجائے کسی نوقیلی چیز کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کاٹن بڈ کے علاوہ کان کسی اور چیز کے ذریعے کان کی صفائی کرنا کتنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے؟

کان کی صفائی کے لیے لوگ سوائے کاٹن بڈ کے ہر چیز استعمال کرلیتے ہیں، مثال کے طور پر بال پن، چابی ، ماچس کی تیلی وغیرہ۔  یہ تمام چیزوں کا استعمال اتنا زیادہ خطرناک ہے کہ اس سے آپ قوت سماعت سے محروم بھی ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کانوں کی صفائی کے لیے کبھی بھی بال پن استعمال نہیں کرنی چاہیئے، کیونکہ بال پن کاگولائی والا حصہ چوڑا ہوتا ہے اور یہ کان کے پردوں کے لیے انتہائی خطرناک ہوتا ہے،بال پن کا استعمال آپ کے کانوں کو خراب بھی کرسکتا ہے۔

اس کے علاوہ کچھ لوگ کانوں کو صاف کرنے  کےلیے چابی بھی استعمال کرلیتے ہیں، جوکہ بہت زیادہ خطرناک ہے۔کانوں کے پردے بہت نازک ہوتے ہیں اور اس میں میٹل کی کوئی بھی چیز لگ جائے تو اس سے کانوں کے پردے متاثر ہوجاتے ہیں۔

کچھ لوگ ماچس کی تیلی بھی کانوں کو صاف کرنے کے طور پر استعمال کرلیتے ہیں۔ماچس کی تیلی کو ہرگز بھی کان میں نہیں ڈالنا چاہیئے، ماچس کی تیلی سے آپ کے کان ایک توخراب ہوسکتے ہیں،دوسرا ماچس کی تیلی کانوں کے اندر ہی ٹوٹ سکتی ہے، جوکہ ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔ لہذا ماچس کی تیلی کو کان میں ڈالنے سے گریز کرنا چاہیئے۔

اکثر لوگوں کو ماچس کی تیلی کا استعمال کافی مہنگا پڑ چکا ہے۔ ماچس کی تیلی کان کے اندر جاکر ٹوٹ جاتی ہے اور پھر اس سے کان میں درد شروع ہوجاتا ہے اور یہ کان کو بھی بے حد متاثر کردیتی ہے۔

لہذا کان کو صاف کرنے کے لیے کبھی بھی ان اشیاء کا استعمال نہیں کرنا چاہیئے،کیونکہ یہ تمام اشیاء کانوں کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں اور اس کے علاوہ ان اشیاء کے استعمال سے آپ قوت سماعت سے بھی محروم ہوسکتے ہیں۔

کان کی صفائی کے لیے گھریلو چیزوں کا استعمال کیا جاسکتا ہے، جیسے زتیون کا تیل کان کی صفائی کے لیے بہت بہترین ہے۔ اس کے علاوہ زیتون کے تیل میں چند قطرے شہد کے شامل کردیں اور اس مکسچر کو کان میں ڈال دیں ، اس عمل سے ایک تو کان کا درد ٹھیک ہوجائے گا اور کسی کو کم سننے کی شکایت ہے تو وہ بھی دور ہوجائے گی۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات عامہ کےلیے ہے۔ اس پر عمل کرنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کرلیں۔

Read Comments