کراچی :ضمنی الیکشن مجموعی طور پر پر امن قرار

شائع 02 جون 2016 06:12pm

کراچی :کراچی میں صوبائی اسمبلی کے حلقوں پی ایس ایک سوچھ اورپی ایس ایک سوسترہ پر پولنگ صبح آٹھ بجے شروع ہوئی جو بلاتعطل شام پانچ بجے تک جاری رہی، پولنگ اسٹیشنز پرپولیس اوررینجرزکی بھاری نفری تعینات رہی، مجموعی طورانتالیس پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قراردیا گیا،تاہم مجموعی طور پر پولنگ کا عمل پر امن رہا۔

کراچی کا ضمنی انتخابی معرکہ،پی ایس ایک سو چھ اور پی ایس ایک سو سترہ پر ہوا۔ایم کیو ایم چھوڑ کر پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہونے والے اراکین سندھ اسمبلی افتخار عالم اور ڈاکٹر صغیر کی نشستوں پر پولنگ ہوئی،دونوں حلقوں کے لوگوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

ایم کیوایم رہنما فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی نے اپنے اپنے حلقوں میں ووٹ کاسٹ کیا،گرمی کی شدت بڑھی تو بدمزگی بھی دیکھنے میں آئی،حسین آباد پولنگ اسٹیشن نمبرآٹھ میں پرایزائڈنگ افسراورخاتون پولنگ ایجنٹ کے درمیان جھگڑاہوگیا۔

پولنگ کا عمل پولیس اور رینجرز کی نگرانی میں جاری رہاجبکہ پولنگ کے دوران ووٹرز ٹرن آوٴٹ انتہائی کم رہا،عزیزآباد، لیاقت آباد، شریف آباد، غریب آباد، بندھانی کالونی، بھنگوریہ گوٹھ اور دیگرعلاقوں میں مشتمل ہے ،جہاں امیدواروں کی تعداد چودہ اور ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ پچھتر ہزار سے زائد ہے۔

پی آئی بی کالونی، جمشید کوارٹر، مارٹن کوارٹر، سولجربازار اورملحقہ علاقوں پرمشتمل ہے اور یہاں پرایک لاکھ چونسٹھ ہزارنوسو رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔حلقے میں چوراسی پولنگ اسٹیشنزاور چھ سو چھتیس پولنگ بوتھ قائم کئے گئے۔جن میں بائیس پولنگ اسٹیشنزکو انتہائی حساس جبکہ باسٹھ حساس قراردیا گیا ہے۔

Read Comments