چوالیس کھرب روپےمالیت کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا

اپ ڈیٹ 03 جون 2016 05:50am

اسلام آباد: مالی سال 17-2016کے لئے44 کھرب روپے مالیت کا وفاقی بجٹ آج شام پیش کیا جائے گا۔

نئے بجٹ میں 300 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جانے کا امکان ہے، جبکہ 100 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ کے خاتمے سے مہنگائی کا نیا طوفان برپا ہونے کا خدشہ ہے۔

خشک دودھ، میک اپ کا سامان، موبائل فون سیٹ، فرنیچر،گاڑیاں اور ڈبوں میں پیک اشیا ءمزید مہنگی ہوجائیں گی۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئندہ مالی سال 17-2016وفاقی بجٹ جمعے کی شام قومی اسمبلی میں پیش کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ بھی عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کے زیر اثر تیار کیا گیا ہے۔گندم، کپاس، اسٹیل کی مصنوعات پر ڈیوٹی برقرار رہے گی۔جبکہ نئی اور پرانی گاڑیوں کی درآمد پر ڈیوٹی میں کمی کا کوئی امکان نہیں۔

نان فائلرز کے لیے نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن پر پہلے سے عائد ایڈوانس ٹیکس میں پانچ سے دس فیصد اضافہ متوقع ہے،انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا۔جائیداد پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں بیس فیصد اضافہ متوقع ہے۔

آئندہ مالی سال سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 800 ارب روپے ہوگا،معاشی ترقی کا ہدف 5.7 اور افراط زر کا ہدف 6 فیصد ہوگا۔

برآمدات کا ہدف 24 ارب 70 کروڑ ڈالر اور درآمدی ہدف 45ارب 20کروڑ ڈالر رکھنے کی تجویز ہے۔

صنعتی ترقی کا ہدف 7.69 فیصد ،زرعی شعبہ کی ترقی کا اندازہ 3.4 فیصد اور پیداواری شعبے کا ہدف  5.9 فیصد متوقع ہے۔

Read Comments