لاہور:گورنر پنجاب رفیق رجوانہ نے صوبائی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 13 جون کو طلب کر لیا۔
صوبائی وزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا ایوان میں 1,900 ارب سے زائد مالیت کا بجٹ پیش کریں گی۔
وزارت خزانہ پنجاب کے ذرائع کے مطابق ،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 450 ارب روپے تک متوقع ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز زیر غور ہے۔
پنجاب میں معاشی ترقی کا حدف 8 فیصد تک رکھا جائے گا اور یہ ٹارگٹ 2018 تک حاصل ہو گا۔
صوبے میں پرائیویٹ سرمایہ کاری کا حجم بھی آئندہ 2 سال میں دوگنا کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز کو شامل کیا گیا ہے۔
لاہور اورنج لائین ٹرین منصوبے کی تکمیل کے لئے 100 ارب روپے مختص کئے جائیں گے جبکہ ملتان اور فیصل آباد میں میٹرو بس سروس منصوبے کی تکیمل کے لئے 80 ارب سے زائد کا بجٹ رکھا جائے گا۔
محکمہ صحت کا بجٹ 186 ارب روپے تک متوقع ہے۔ جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں سے غربت کے خاتمے کے لئے 400 ارب سے زائد بجٹ مختص کئے جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق ،سالانہ ترقیاتی پروگرام کا 70 فیصد جاری جبکہ 30 فیصد نئی ترقیاتی سکیموں کے لئے مختص کیا جائے گا۔ غیر ملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں کو اہمیت دی جائے گی۔
صوبے میں ممکنہ سیلاب اور آفات سے نمٹنے کے لئے 5 ارب روپے کی رقم مختص کئے جانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
مزدور کی تنخواہ کم از کم 14 ہزار ماہانہ مقرر کی جائے گی۔ لیپ ٹاپ اور سکالرشپ سکیم کے لئے بھی 5 ارب 50 کروڑ روپے مختض کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
پولیس، صحت، زراعت اور محکمہ تعلیم کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے گا۔