امریکا کو جب ہماری ضرورت پڑتی ہے تو وہ ہمارے پاس آتا ہے،سرتاج عزیز

شائع 09 جون 2016 05:00pm

اسلام آباد:مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ امریکا کو جب ہماری ضرورت پڑتی ہے تو وہ ہمارے پاس آتا ہے ورنہ اس کا رویہ بدل جاتا ہے۔

دفتر خارجہ میں نیوز بریفنگ دیتے ہوے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو جاری رکھنا چاہتا ہے لیکن پٹھان کوٹ کے واقعہ کو بہانہ بنا کر مذاکراتی عمل کو تعطل کا شکار کیا گیا جبکہ جنوبی ایشیاء میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کا فیصلہ پاکستان نے کرنا ہے اور پاکستان چین،بھارت، وسط ایشیائی ریاستوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ استحکام آنے سے ہی بھارت سے تعلقات بہتر ہوں گے، پاکستان افغانستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے پرامن تعلقات چاہتا ہے لیکن ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد افغان مذاکرات کا عمل تعطل کا شکارہوگیا۔

مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے پرعزم ہیں۔ اقوام متحدہ کے فورم سے دنیا میں امن کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے اور مسئلہ کشمیر کو دنیا کے ہر فورم پر اٹھائیں گے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کیلئے بہت زیادہ اہم ہے جب کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کو اہم جانتا ہے اور روس کے ساتھ بھی تعلقات بہتری کی طرف گامزن ہیں۔

Read Comments