اسلام آباد:بلوچستان میں ڈرون حملے کے بعد سے پاک امریکا تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔ پاکستان کا سخت ردعمل ، شدید ناراضگی ، ڈرون گرانے کے پیغام کے بعد اب چین نے بھی واضح طور پر پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔
تازہ صورتحال نے اوباما انتظامیہ کو بھی پریشان کر دیا ہے اور اب پاکستانی تحفظات دور کرنے کیلئے اعلیٰ سطح کا امریکی وفد کل پاکستان آ رہا ہے۔
نوشکی میں ہونے والے ڈرون حملے پر پاکستان نے شدید ردعمل دیا،کیونکہ امریکا کی جانب سے بلوچستان میں یہ پہلا ڈرون حملہ تھا۔
معاملے پر سیاسی و عسکری قیادت نے کئی بار بیٹھک لگائی،ہر بار پاکستان کی جانب سے امریکا کو سخت پیغام دیا گیا۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے امریکہ کو ڈرون گرانے کا بالواسطہ پیغام بھی دیااور اب عالمی شطرنج کا اہم کھلاڑی چین بھی پاکستان کی حمایت میں آ کھڑا ہے۔
ڈرون حملے کے معاملے پر چین نے پاکستانی مؤقف کی واضح تائید کر دی ہے۔
چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بڑی کوششیں کی،اس لئے عالمی برادری بھی پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرے۔
چین نے واضح کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے۔چین کے مطابق افغان مفاہمتی عمل کیلئے چار ملکی رابطہ گروپ موجود ہے۔
پاکستان کی شدید ناراضگی اور اب چین کی پاکستانی مؤقف کی واضح حمایت دیکھ کر امریکی صدر اوباما کو بھی نوٹس لینا پڑا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کے تحفظات دور کرنے کیلئے اب صدر اوباما اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان بھیج رہے ہیں۔
امریکی وفد میں سینیئر ڈائریکٹر وائٹ ہاؤس ڈاکٹر پیٹر لیوائے شامل ہوں گے ۔امریکی نمائندہ خصوصی رچرڈ اولسن اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وفد کا حصہ ہونگے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے پر پاک امریکا مذاکرات جمعہ کو اسلام آباد میں ہوں گے۔