بلوچستان کا مالی سال 17-2016کا بجٹ پیش کردیا گیا

شائع 19 جون 2016 04:58pm

کوئٹہ:بلوچستان کا دو کھرب  نواسی ارب روپے سے زائد کا آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کردیا گیا۔

بلوچستان کیلئے مالی سال 17-2016کا بجٹ  پیش کردیا گیا ۔36ارب روپے خسارے کے اس بجٹ کا کل حجم دو کھرب نواسی روپے سے زائد ہے۔بجٹ وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری نے پیش کیا۔

بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 71، تعلیم کیلئے40 اور صحت کیلئے 17 ارب 36 کروڑ سے زائد کی رقم مختص کی گئی،امن وامان اورمحکمہ داخلہ کیلئے 30 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

پٹ فیڈرکینال سے پانی کوئٹہ لانے کیلئے 40 ارب روپے مختص کرنے کی تجویزہے۔

پاک چین ٹرانزٹ ٹرین کیلئےدوارب جبکہ گرین بس سروس کیلئےایک ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

بجٹ میں گوادرکی ترقی پر بھی توجہ دی گئی ہے، اس حوالے سے تین ارب رکھے گئے ہیں۔

تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد اضافے کیا گیا ہے جبکہ کم سے کم اجرت 14 ہزار روپے کردی گئی۔

نواب ثناءاللہ زہری نے صوبے میں لیپ ٹاپ اسکیم کا بھی اعلان کرتے ہوئے 50 کروڑ روپے کی رقم کا اعلان کیا۔

ثناء اللہ زہری نے بلوچستان میں بے روزگاری کے خاتمے کیلئے 3 ہزار 220 نئی آسامیوں کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس سال حکومت کاشتکاروں سے گندم کی خریداری نہ کرسکی جس کے ذمہ دار افسران کیخلاف انکوائری ہوگی۔بجٹ تقریر میں کہا گیا کہ بلوچستان حکومت ریکوڈک اور سینڈک منصوبوں پر بھی جلد کام شروع کردے گی۔

حکومتی خرچہ پر بیرون ملک علاج اورظہرانوں اور عشائیوں پر بھی پابندی ہوگی۔

Read Comments