Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
اسلام آباد:مشیرخارجہ سرتاج عزیز کہتے ہیں بھارت پر واضح کردیا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر اس سے تعلقات استوار نہیں ہوسکتے، بات ہوگی تو کشمیر اور سیاچن سمیت تمام معاملات پر ہوگی۔
سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مشیر خارجہ نے ملک کی پالیسی کے اہم نکات بیان کیے، انہوں نے کہا کہ ایوب خان، ضیاء الحق اور مشرف کے دور میں ہم مغرب کے منظورنظرتھےلیکن نائن الیون کے بعد بین الاقوامی سطح پر بڑی تبدیلی آئی۔
سرتاج عزیز نے پاک امریکا پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا پاکستان کے نیوکلیئرپروگرام پر قدغن لگانا چاہتا تھا لیکن پاکستان نےاس پرکوئی سمجھوتا نہیں کیا۔
مشیر خارجہ نے ڈرون حملوں کا ذمہ دار مشرف کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکا سے کہا کہ ڈرون حملے کرتے رہو ہم بس لفظی احتجاج کریں گے۔
مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا کو غلط فہمی ہے کہ ہمارے کچھ ادارے طالبان کی مدد کررہے ہیں ہم واشنگٹن کے کہنے پر افغانستان کی لڑائی اپنی سرزمین پر نہیں لڑسکتے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک افغان بارڈر محفوظ نہیں ہوگا دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جاسکتا،پاکستان کی کوشش ہے کہ افغان حل کیلئے بات چیت کا سلسلہ جاری رہے اور اس کا حل نکلے۔
سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ بھارت خود اسٹیٹ ایکٹرز کے ذریعے دہشت گردی کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ مداخلت کی پالیسی کے باعث پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا، اب ہم کسی بھی ملک کے معاملے میں مداخلت نہ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔