Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
کراچی :چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے صاحبزادے کو ایک دن گزرنے کے بعد بھی بازیاب نہ کرایا جا سکا۔ سیکیورٹی ادارے تاحال اغوا کاروں کا سراغ لگانے میں ناکام ہیں۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے ساتھ جیل میں کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ادھر ڈی جی رینجرز نے خود جائے وقوعہ کا دورہ کیا جبکہ رینجرز کی جانب سے ملزمان کی اطلاع دینے والے کیلئے پچیس لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔
اویس شاہ کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے صاحبزادے اویس شاہ کے اغوا کو ایک دن سے زائد ہو گیا،بازیابی کی کوششیں بار آور نہیں ہو سکیں،سیکیورٹی ادارے تاحال اغوا کاروں کو سراغ لگانے میں ناکام ہیں۔پولیس کے مطابق اویس شاہ کلفٹن کے سپراسٹورخریداری کیلئے پہنچے تھے جس کے بعد سے ان کا کچھ پتا نہیں ۔
سیکیورٹی ادارے ہائی پروفائل کیس حل کرنے کیلئے شہر میں تابڑ توڑ چھاپے مار رہے ہیں مگر تاحال کامیابی نہیں مل سکی۔اغوا کے حوالے سے جیل میں قید کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
ادھر ڈی جی رینجرز نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور انتظامیہ سے تفصیلات بھی لیں۔میجر جنرل بلال اکبر شون سرکل پر اویس شاہ کی گاڑی برآمد ہونے والے مقام پر بھی گئے۔ڈی جی رینجرز کواویس شاہ کی گمشدگی پرافسران نے بریفنگ بھی دی۔رینجرز نے اغوا کاروں کی نشاندہی کرنے والے کیلئے پچیس لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔
ترجمان رینجرز کے مطابق عوام اغوا کاروں سے متعلق مستند اطلاع رینجرز ہیلپ لائن پر دیں۔ ادھر تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ اویس شاہ کا موبائل فون کینٹ اسٹیشن کے قریب بند ہواجبکہ تحقیقاتی اداروں کو اویس علی شاہ کے موبائل ریکارڈ سے کسی مشکوک کال کا ریکارڈ نہیں ملا۔تفتیشی ذرائع کے مطابق شان سرکل سے سہراب گوٹھ تک سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرلی گئی ہے جبکہ ایس آئی یو،اے وی سی سی،سی پی ایل سی،ایس ایس یو واقعے کی تفتیش کر رہے ہیں۔تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ شون سرکل سے سہراب گوٹھ تک سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے۔