سول ایوایشن کاواجبات کو پی آئی اے کے حصص میں منتقل کرنے سے انکار

شائع 24 دسمبر 2015 11:39am

اسلام آباد:سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کمپنی پر اپنے واجبات کو پی آئی اے کے حصص میں منتقل کرنے سے انکار کردیا۔

سیکریٹری سول ایوی ایشن اتھارٹی عرفان الٰہی کے مطابق سی اے اے کے بورڈ آف ڈائریکٹر نے پی آئی اے پر اپنے واجبات کو حصص میں منتقل کرنے کی منظوری دی تھی۔ تاہم اس سلسلے میں قانونی ماہرین کی جانب سے انکار سامنا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹرانزکشن غیرقانونی ہے،لہٰذا اس پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی ایک ریگولیٹر ہے، جو کسی بھی طرح پی آئی اے کی شیئر ہولڈر نہیں بن سکتی۔

پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق سیکریٹری سی اے اے عرفان الہٰی کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں وزارت کو کسی حتمی تاریخ کا کوئی علم نہیں، وزارت خزانہ اور نجکاری کمیشن نے عالمی مالیاتی فنڈ کو پی آئی اے کے چھبیس فیصد شیئرز کی فروخت کے لئے تیس جون دوہزار سولہ کی تاریخ دے رکھی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ملازمین کے تحفظ کے لئے حکومت کے پاس کئی آپشن ہیں، تاہم اس سلسلے میں ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔

ادھر ایوی ایشن ڈویژن کی آڈٹ رپورٹ برائے انیس سو اٹھانوے، انیس سو ننانوے کے مطابق پی آئی اے پر اسلام آباد، پشاور اور ملتان ایئرپورٹ کے کرائے اور دیگر مد میں ایوی ایشن کے نو کروڑ تیس لاکھ روپے واجبات ہیں۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بھی سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کمپنی کو معاملہ جلد حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ایسی صورتحال میں کہ جب حکومت پی آئی اے کی نجکاری کے درپے ہے، بعض معاملات میں ابھی تک الجھاوٴ اس کی نجکاری میں مزید تاخیر کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ حکومت کو پی آئی اے کی فروخت کے سلسلے میں ملازمین کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔

Read Comments