کراچی:چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے صاحبزادے کو 2 دن گزرنے کے بعد بھی بازیاب نہ کرایا جا سکا ۔سیکیورٹی ادارے تاحال اغوا کاروں کا سراغ لگانے میں ناکام ہیں ۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے ساتھ جیل میں کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے ۔
ادھر ڈی جی رینجر ز نے خود جائے وقوعہ کا دورہ کیا جبکہ رینجرز کی جانب سے ملزمان کی اطلاع دینے والے کیلئے 25 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے صاحبزادے اویس شاہ کے اغوا کو ایک دن سے زائد ہو گیا،بازیابی کی کوششیں بار آور نہیں ہو سکیں،سیکیورٹی اداروں کو بھی تاحال اغوا کاروں کا کوئی سراغ نہ مل سکا ۔
اویس شاہ کے اغوا کی نئی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی سامنے آ گئیں،جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اغوا کار اویس شاہ کا مسلسل تعاقب کر رہے ہیں،اویس شاہ سندھ ہائیکورٹ سے جیسے ہی نکلے ،ان کے پیچھے وہی سفید کار جس پر ایس پی 0586 کی نمبر پلیٹ لگی ہے موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ نمبر ایس ایس پی سٹی فیض اللہ کوریجو کی گاڑی کا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فیض اللہ کوریجو کی گاڑی اور ملزمان کی گاڑی ایک ہی برانڈ کی ہے تاہم کلر کا فرق ہے،سوال یہ ہے کہ جعلی نمبر پلیٹ کی گاڑی شہر میں گھومتی رہی ۔
ادھر سی ٹی ڈی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اویس شاہ کراچی میں نہیں ہے،سیکیورٹی ادارے کیس حل کرنے کیلئے تابڑ توڑ چھاپے تو مار رہے ہیں مگر کامیابی نہیں مل سکی۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ اویس شاہ کا موبائل فون کینٹ اسٹیشن کے قریب بند ہواجبکہ تحقیقاتی اداروں کو اویس علی شاہ کے موبائل ریکارڈ سے کسی مشکوک کال کا ریکارڈ نہیں ملا۔
تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ شون سرکل سے سہراب گوٹھ تک سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے۔