Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
کراچی میں معروف قوال امجدصابری کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا ۔
آج نیو زکے مطابق امجد صابری اپنی گاڑی میں لیاقت آباد سے گزر رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کردی ۔فائرنگ کے بعد فوری طور پر ان کو ہسپتال منتقل کردیا گیا تاہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے ۔واقعے کے بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔
پولیس افسر فاروق سنجرانی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پینتالیس سالہ امجد صابری اپنے ساتھی کے ہمراہ کار میں سوار لیاقت آباد سے گزررہے تھے کہ اس دوران موٹر سائیکل سواروں نے ان کو نشانہ بنایا ۔ایک اور سینئر پولیس افسر مقدس حیدر نے واقعے کو دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ قرار دیا ہے ۔
ہسپتال ذرائع نے بھی امجد صابری کے سر میں پانچ گولیاں لگنے کی تصدیق کی اور کہاہے کہ عباسی شہید ہسپتا ل میں ہی وہ اپنا دم توڑ چکے تھے تاہم انکے ہمراہ ایک عزیز جسکا نام سلیم صابری ہے تاحال زیر علاج ہے اور اسکی حالت بھی تشویشناک ہے ۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق امجد صابری کو چھ گولیاں لگی تھیں ،ان کو گولیاں سینے اور چہرے میں ماری گئیں۔اب ان کی میت عباسی شہید سے آغا خان ہسپتال منتقل کردی گئی ہے ۔پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ ایک گھنٹہ قبل رونما ہوا ہے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم نے امجد صابری کے قتل کے بعد شہر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ وزیر اعظم نواز شریف ،سابق صدر آصف زرداری سمیت دیگر سیاسی رہنماوں نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے انکے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کیا ہے۔
واضح رہے کہ دوہزار چودہ میں عدالت نے ان کو متنازعہ قوالی پر توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کیا تھااور رواں رمضان کے دوران وہ ایک نجی چینل کیساتھ منسلک تھے اور وہاں پر اپنے فن کا مظاہرہ کررہے تھے تاہم ان کے قتل کی معاشرے کے مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور الفاظ میں مذمت کی ہے ۔