ملتان:3سال تک اغواءکاروں کے قبضے میں رہنے کے بعد افغانستان سے بازیاب ہونے والے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کا کہنا ہے کہ القاعدہ ان کے بدلے ایمن الظواہری کے خاندان کی چند خواتین کی رہائی چاہتی تھی۔
علی حیدر گیلانی کو 2013میں ملتان سے انتخابی مہم کے دوران اغوا کیا گیا تھا، بی بی سی اردو کو خصوصی انٹرویو میں علی حیدر گیلانی نے بتایا کہ اغوا کار پنجابی میں بات کر رہے تھے، ملتان سے خانیوال روڈ کے ذریعے فیصل آباد لایا گیا جہاں 2ماہ رکھا گیا۔
وہ 3 سال تک القاعدہ کے قبضے میں رہے تھے اور کراچی سے تعلق رکھنے والا القاعدہ کا ایک اہم رکن ضیا ان کے ساتھ 3 سال تک رہا،القاعدہ میرے بدلے ایمن الظواہری کے خاندان کی چند خواتین کی رہائی اور بھاری رقم کا تقاضا کررہی تھی، اغوا کاروں نے مجھے اغواء کی وجہ گیلانی کا بیٹا ہونا بتائی۔
علی حیدر گیلانی نے بتایا کہ 22 جولائی 2013کو انہیں براستہ موٹروے بنوں سے وزیرستان منتقل کیا گیا،انہیں برقعہ پہنادیا گیا تھا، راستے میں پاک فوج کی 10 بڑی چیک پوسٹیں آئیں لیکن کسی نے چیک نہیں کیا۔
علی حیدر گیلانی کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں انہیں ڈانڈے درپہ خیل میں 7 ماہ تک رکھا گیا، وہاں بھی سارے پنجابی بولنے والے اور ایک جرمن مغوی تھا، دتہ خیل میں ڈرون حملے کے دوران القاعدہ برصغیر کے رہنما اور لاہور سے اغوا کئے گئے۔
امریکی شہری کی ہلاکت کے بعد انہیں طالبان کے سجنا گروپ کے حوالے کردیا گیا ، 14 ماہ ان کے پاس رہا پھر افغانستان منتقل کردیا گیا، قید کے دوران ایک مثبت واقعہ یہ پیش آیا کہ طالبان نے انہیں پاکستان کا کرکٹ میچ سننے کےلئے ریڈیو دیا۔
علی حیدر گیلانی نے بتایا کہ اس سال فروری میں شوال اور دتہ خیل میں کارروائی کے بعد انہیں افغانستان منتقل کیا گیا، وہاں ایک کمپاؤنڈ میں رکھا گیا تھا، 9 مئی کو امریکی فوجی کارروائی کے دوران وہ اغواکاروں سے بھاگ نکلے ۔
علی حیدر گیلانی نے بتایا کہ امریکی فوج نے پہلے انہیں نہیں پہچانا ، بعد میں تصدیق ہونے کے بعد انہوں نے مجھے کہا کہ مسٹر گیلانی آپ گھر جا رہے ہیں، دوران قید اغواء کاروں نے 2 مرتبہ گھروالوں سے بات کرائی۔