لاڑکانہ :اسد کھرل کو چھڑوانے کا معاملہ، ڈی آئی جی کو تحقیقات کا حکم

شائع 14 جولائ 2016 05:16pm

لاڑکانہ میں رینجرز سے چھڑوائے گئے جونیئر کلرک اسد کھرل کے معاملے پر سندھ کی اہم سیاسی شخصیات اور سیکیورٹی فورسز میں ٹھن گئی ۔ ملزم کو اب تک گرفتار نہیں کیا جا سکا نہ ہی اب تک کوئی مقدمہ درج ہوا ہے۔

 وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے ڈی آئی جی لاڑکانہ کو واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے ۔ دوسری جانب سے وزیر داخلہ کے بھائی طارق سیال کا کہنا ہے کہ ن پر اسد کھرل کو رینجرز تحویل سے چھڑوانے کا الزام غلط ہے۔ انہوں نے حفاظتی ضمانت کیلئے عدالت سے بھی رجوع کر لیا۔

لاڑکانہ میں رینجرز کی تحویل سے چھڑوائے گئے اسد کھرل کا معاملہ سنگین ہو گیا،باکھرانی کے تعلقہ میونسپل ایڈمنسٹریشن کے جونیئر کلرک کی کرپشن نے سب کو ہلا دیا۔

مجرموں سے گٹھ جوڑ کرنے والے شخص کو بچانے کیلئے سندھ کی اہم شخصیات میدان میں آگئیں معاملے اتنا بڑھا کہ سندھ کی اہم سیاسی شخصیات اور رینجرز میں ٹھن گئی۔

دو روز قبل وزیر داخلہ سندھ کے بھائی طارق انور سیال اور انکے ساتھیوں نے اسد کھرل کو زبردستی فورسز سے چھڑوا لیا تھا،پولیس نے بھی وزیر داخلہ سندھ کے بھائی طارق انور سیال کی مدد کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسد کھرل کو چھڑانے کے بعد کراچی منتقل کردیا گیا اور اسے دبئی فرار کرانے کی کوشش ہو رہی ہے۔وزیر داخلہ سندھ نے تو معاملے سے لاتعلقی ظاہر کی ہے اور ڈی آئی جی لاڑکانہ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی جبکہ اس سے قبل ترجمان رینجرز نے کہا تھا کہ اسد کھرل اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔

سندھ میں جاری آپریشن کے کپتان نے بھی صاف صاف کہہ دیا کہ جرائم پیشہ افراد کو کسی کی سرپرستی حاصل نہیں مگر وزیراعلیٰ یہ بھی کہہ گئے کہ اسد کھرل کے معاملے کو زیادہ نہ بڑھایا جائےجو کچھ بھی ہوا وہ غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا۔

ادھر لاڑکانہ میں وزیر داخلہ سندھ کے بھائی طارق انور سیال نے پریس کانفرنس میں خود پر لگائے الزامات جھوٹے قرار دیئے۔انہوں نے کہا کہ اسد کھرل کو سادہ لباس لوگ اپنے ساتھ لے گئے تھے اطلاع ملنے پر شہری، ملزم کے ورثا اورپولیس نے راستے میں روک کر اسد کھرل کو چھڑوایا

میں تو جائے وقوعہ پر ایس ایس پی لاڑکانہ کے بعد پہنچا،الزامات عائد کرکے ان میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔

Read Comments