Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے وفاق سے مردم شماری کرانے کی حتمی تاریخ طلب کرلی ۔
چیف جسٹس انورظہیرجمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بنچ نے مردم شماری میں تاخیرپرازخود نوٹس کی سماعت کی ۔
چیف جسٹس نے حکومت کی تاخیری حربوں پربرہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ آئین کی خلاف ورزی پہلی بار نہیں کی گئی ۔ حکومت نے آئینی کتابوں کوالماری میں سجا رکھا ہے۔ کاغذی کارروائی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مردم شماری کے لیے فوج کی ضرورت ہے۔ فوج دہشت گردی کیخلاف مختلف محاذوں پر نبردآزما ہے ۔
جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دئیے کہ آئین میں کہاں لکھا ہے کہ مردم شماری کیلئے فوج کی ضرورت ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں مردم شماری کے لیے کوئی مدت مقررنہیں کی گئی ۔ انٹرنیشنل کنونشن کے مطابق، ہر10 سال بعد مردم شماری کرانا لازمی ہے۔ عدالت نے حکومت سے دو ہفتے میں تحریری جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ۔