Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
سپریم کورٹ نے حکومت کو مردم شماری کی تاریخ دینے کی ڈیڈلائن دے دی ۔سپریم کورٹ نے دو دن میں دوسرا بڑا حکم سنادیا۔ الیکشن کمیشن اراکین کی تعیناتی کے بعد مردم شماری کی تاریخ دینے کی ڈیڈلائن دے دی۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ کاغذی کارروائی میں کوئی دلچسپی نہیں۔ حکومت نے آئین کی کتابوں کو صرف الماری میں سجا رکھا ہے۔
سپریم کورٹ کا دو دن میں دوسرا بڑاحکم،گزشتہ روز الیکشن کمیشن اراکین کی تعیناتی کی ڈیڈلائن دی،آج مردم شماری کی حتمی تاریخ طلب کرلی۔حکومت سے دو ہفتے میں جواب مانگ لیا۔
سپریم کورٹ میں مردم شماری میں تاخیر پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے حکومت کے تاخیری حربوں پر برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئینی کتابوں کوالماری میں سجا رکھا ہے۔ آئین کی خلاف ورزی پہلی بار نہیں کی گئی ۔
عدالت کو کاغذی کارروائی سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مردم شماری کے لیے فوج کی ضرورت ہے۔ لیکن فوج اس وقت دہشت گردی کیخلاف مختلف محاذوں پر نبردآزما ہے ۔ جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے سوال کیا کہ آئین میں کہاں لکھا ہے کہ مردم شماری کیلئے فوج کی ضرورت ہے؟
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آئین میں مردم شماری کے لیے کوئی مدت بھی مقررنہیں۔ انٹرنیشنل کنونشن کے مطابق ہردس سال بعد مردم شماری کرانا لازمی ہے۔ عدالت نے حکومت سے دو ہفتے میں تحریری جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔