پاکستان پر غیرت کے نام پر قتل کے مجرموں کو معافی نہ دینے پر زور

شائع 20 جولائ 2016 02:21pm

برلن :انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ غیرت کے نام پر قتل اور عورتوں پر تشدد کے مجرموں کو معافی نہ دے۔ ایمنسٹیی کا کہنا ہے کہ پاکستان اس ضمن میں قانون سازی کیلئے بنیادی اصلاحات متعارف کرے۔

انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے غیرت کے نام پرعورتوں  اور مردوں  کے قتل پررپورٹ جاری کردی ہے، رپورٹ میں قندیل بلوچ کے حالیہ قتل کو موضوع بنایا گیا ہے۔

رپورٹ میں جہاں قندیل بلوچ کے قتل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، وہیں پنجاب حکومت کی جانب سے قندیل بلوچ کے  قتل کے مقدمے میں قتل غیرت کی شِق شامل کرنے کو بھی سراہا گیاہے ۔اس شق کے تحت اب قاتل کو خاندان کی جانب سے معاف کرنے کا قانونی حق نہیں رہے گا۔

گذشتہ ہفتے سوشل میڈیا سلیبریٹی قندیل بلوچ کو قتل کردیا گیا تھا، ملتان پولیس نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے بھائی نے انہیں غیرت کے نام پر قتل کیا ہے۔ خود قندیل بلوچ کے بھائی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر قندیل کی ویڈیوز کے بعد لوگ انہیں طعنے دے رہے تھے۔

ادارے کی ڈائریکٹر برائے ساؤتھ ایشیئن ریجن چمپا پٹیل کہتی ہیں کہ غیرت کے نام پر قتل کرنے والوں کو استثنیٰ نہیں دینا چاہئے۔ اس قسم کے جرائم کی معافی کا سلسلہ بھی بند ہوجانا چاہئے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں غیرت کے نام پرقتل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دو ہزار پندرہ میں گیارہ سو عورتیں غیرت کے نام پر قتل ہوئیں، دوہزار چودہ میں یہ تعداد ایک ہزار جبکہ دوہزار تیرہ میں  آٹھ سو انہتر تھی۔

Read Comments