مقبوضہ کشمیر:بھارتی بربریت کیخلاف اقوام متحدہ کا مشن بلوانے کا فیصلہ

شائع 22 جولائ 2016 01:42pm

قومی سلامتی کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر اور بربریت کیخلاف اقوام متحدہ کا جائزہ مشن بلوانے کا فیصلہ کیا ہے، پاک افغان سرحد پر بارڈر مینجمنٹ نظام کو بھی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس  وزیراعظم کی زیرصدارت ہوا،  مسلح افواج کے سربراہان  وفاقی وزراء ، سربراہ آئی ایس آئی، خارجہ اور سلامتی امور کے مشیروں نے شرکت کی اور مقبوضہ کشمیر کے  حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

 وزیراعظم نے بھارتی مظالم کو بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہاکہ بھارت کی جانب سے ان حالات کو داخلی معاملہ قرار دینا سرے سے ہی غلط ہے، یہ حالات تو اقوام متحدہ کے ضابطوں اور عالمی  ی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

 کمیٹی نے قرار دیا کہ کشمیریوں کی کئی نسلیں اپنے بنیادی حق اور تحریک آزادی کیلئے قربانیاں دیتی چلی آئی ہیں جس کی وجہ سے بھارت اپنا غاصبانہ تسلط برقرار نہیں رکھ سکتا، مسئلہ کشمیر کا واحد دیرپا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد سے ممکن ہے۔  پاکستان، کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ  مقبوضہ کشمیر میں حقائق جاننے والا عالمی مشن بھجوانے اور  کشمیریوں کیخلاف چھروں والی بندوق کا استعمال رکوانے کیلئے کیلئے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے رابطہ کیا جائے گا ، اس کیلئے او آئی سی رابطہ گروپ کا پلیٹ فارم بھی استعمال کیا جائے گا۔

 کمیٹی نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے  کہ وہ اقوام متحدہ کی  قراردادوں پر عملدرآمد سے متعلق اپنی یقین دہانیوں پر عمل کرائے،  قومی سلامتی کمیٹی نے ضرب عضب کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے شدت پسندی اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم دہرایااور کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ پاک افغان سرحد پر موثر انتظامی نظام قائم کیا جائے گا جو کہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے ۔

Read Comments