سپریم کورٹ:کراچی میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں سے متعلق رپورٹ پیش

اپ ڈیٹ 28 جولائ 2016 08:38am

کراچی:کراچی بدامنی عملدرآمد کیس میں ایڈووکیٹ  جنرل نے سی سی ٹی وی کیمروں سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی، کراچی میں 2میگا پکسل کے کیمرے لگانے کی ذمہ دار ٹیکنیکل کمیٹی تھی،164مقامات پر کیمرے لگانے کیلئے پچاس کروڑ روپے مختص ہوئے تھے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کراچی بدامنی عمل درآمد کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس انورظہیرجمالی کی سربراہی میں 5رکنی لارجربینچ نے کی۔

چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے کراچی میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں سے متعلق رپورٹ ایڈووکیٹ جنرل نے پیش کی۔

رپورٹ کےمطابق،  سندھ پولیس کے کیمروں کے لئے 2 میگا پکسل مقرر کرنے کی ذمہ داری ٹیکنیکل کمیٹی تھی ۔ شہر میں نصب 2321کیمروں کا کنٹرول کے ایم سی، پولیس اورحکومت سندھ کے پاس ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ سندھ پولیس نے 2012 میں 2 میگا پکسل والے 820 کیمرے لگوائے جن میں سے صرف 17 فعال ہیں۔

 ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 2008 میں کے ایم سی کی سمری اور محکمہ خزانہ کی تجویز پر وزیر اعلیٰ نے تمام کیمروں کا کنٹرول سندھ پولیس کو منتقل کرنے کی منظوری دی تھی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 2011 میں حکومت سندھ کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ نے 46 مقامات پر 198 کیمرے نصب کرائے جو 5 میگا پکسل کے تھے جبکہ ایئرپورٹ سے مختلف مقامات 164 مقامات پر کیمرے لگانے کیلئے 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔

سپریم کورٹ نے جدید سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کردیا اور کہا کہ بتایا جائے نئے کیمروں کے لئے کتنی رقم اورکب دی جائےگی اورکام کب شروع ہوگا؟؟ کیس کی سماعت 11 اگست تک ملتوی کردی گئی ہے۔

Read Comments