Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
کراچی:وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی کابینہ نے حلف اٹھا لیا، کابینہ میں نو وزیر ، چار مشیر اور چارمعاونین خصوصی شامل ہیں ، کابینہ اراکین کو محکمے تقویض کر دیے گئے ، محکمہ داخلہ کا قلمدان وزیر اعلی کے پاس ہی رہے گا ۔
گورنر ہاؤس میں حلف برداری کی تقریب ہوئی، گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے نئے کابینہ اراکین سے حلف لیا، کابینہ اراکین کو محکمے بھی سونپ دئے گئے۔محکمہ داخلہ اور خزانہ سمیت چھ محکمے وزیر اعلی سندھ کے پاس رہیں گے۔خوراک اور پالیمانی امور کی وزارت نثار کھوڑو چلائیں گے۔مخدوم جمیل الزمان ریونیو اور ریلیف کے وزیر ہونگے۔
جام مہتاب ڈھر تعلیم جبکہ سردار سکندر میندھرو صحت کی وزارت سنبھالیں گے،سہیل انور سیال کا قملدان تبدیل کرکے انہیں زراعت کا شعبہ دیا گیا ہےجبکہ جام خان شورو بدستور وزیر بلدیات کے فرائض انجام دیں گے۔مکیش کمار چاولہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن،سردار شاہ ثقافت اور شمیم ممتاز سوشل ویلفئرز کے وزیر ہونگے۔
مشیران میں مولا بخش چانڈیو اطلاعات ، اصغر جونیجو معدنیات اور معدنی ترقی ، سعید غنی محنت اور مرتضی وہاب قانون اور اینٹی کرپشن کے معاملات سنبھالیں گے جبکہ معاونین خصوصی میں ارم خالد کو ترقی نسواں، کھٹو مل کو اقلیتی امور، غلام قادر جیلانی کو اوقاف، زکوہ اور مذھبی امور جبکہ سکندر شورو کو آئی ٹی کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
حلف برداری کے بعد وزیر اعلیٰ نے نو منتخب کابینہ اراکین کے ہمراہ مزار قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی، میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلی مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کوشش ہوگی کہ صوبے کی ترقی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
مراد علی شاہ نے بلاول ہائوس میں پارٹی چیرمین بلاول بھٹو زرداری سے بھی ملاقات کی، چیرمین پیپلز پارٹی نے انہیں عوام کی خدمت کے لیے ہر ممکن اقدامات کی ہدایت کی، اپوزیشن جماعتوں نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ نئے وزیراعلیٰ اگر اسی طرح متحرک رہے تو شاید صوبے کی حالت میں بہتری لائی جاسکے۔